یوکرین میں 15 فروری سے جنگ بندی کا اعلان

Image caption یوکرین میں جنگ کے دوران ایک سال میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یوکرین کے بحران کے خاتمے کے لیے یوکرین، روس، جرمنی اور فرانس میں میں معاہدہ طے پاگیا ہے اور اعلان کے مطابق جنگ بندی 15 فروری کو ہو گی۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں طویل مذاکرات کے بعد چاروں ممالک کی جانب سے طے پانے والے معاہدے کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

امن کے اس لائحۂ عمل میں غیر مسلح ہونا اور قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے، تاہم بنیادی معاملات اب بھی طے ہونا باقی ہیں۔

مشرقی یوکرین میں موجود روس نواز باغیوں نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ خطے میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

منسک سے بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپین نے بتایا کہ یہ معاہدہ گذشتہ سال ستمبر میں طے پانے والے جنگ بندی کے اس معاہدے سے ملتا جلتا ہے جو بہت جلد ختم ہو گیا تھا۔

معاہدے کے اہم نکات:

  • جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق اتوار کو شروع ہو گی۔
  • علاقے سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کا آغاز 17 فروری سے ہو گا اور یہ دو ہفتوں میں مکمل ہو گا۔
  • تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور جنگ میں ملوث لوگوں کو معافی دی جائے گی۔
  • غیر ملکی تنصیبات، ہتھیار اور سپاہی یوکرین کی حدود سے نکل جائیں گے، اور تمام غیر قانونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
  • یوکرین پابندیوں کو ہٹا کر باغیوں کے علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی اجازت دے۔
  • باغیوں کے علاقوں کو مرکز میں لانے کے لیے 2015 کے اختتام تک آئینی اصلاحات کی جائیں۔
  • اگر 2015 کے اختتام تک تمام شرائط پوری ہو جائیں تو یوکرین روس کے ساتھ سرحدوں کو کنٹرول کرے۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ وہ اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنے یورپی یونین کے ساتھیوں سے کہیں گے کہ جمعرات کو منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں یوکرین کے امن کے لیے طے پانے والی ڈیل کی حمایت کریں۔

میرکل کا کہنا ہے کہ ’امید کی ایک کرن تو ہے لیکن اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں جبکہ مسٹر اولاند کا خیال ہے کہ آنے والے گھنٹے اہم ہوں گے‘۔

روس کے صدر پوتن نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے لیے رات بہترین نہیں تھی لیکن صبح اچھی ہے۔

آزاد حکومت کے لیے دونتسک اور لوہانسک کے علیحدگی پسند علاقوں میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

نامہ نگاروں کے مطابق نئی جنگ بندی میں باغیوں کو سابقہ جنگ بندی کی مانند چند ایسے علاقوں کو چھوڑنا ہوگا جو انھوں نے حاصل کیے لیکن حکومتی فوج اس فرنٹ لائن سے واپس چلی جائے گی اور جو علاقے جنوری کے بعد اسکے اختیار سے نکل گئے تھے وہ اس حتمی طور پر اس کے نہیں رہیں گے۔

لیکن اہم سوال دیبالتسوا کے حوالے سے ہے جہاں حکومتی فوجیں اب بھی محاصرے میں ہیں۔

بھاری ہتھیاروں کے لیے بفر زون کم از کم 50 کلومیٹر تک پھیلی ہے۔

اگر جنگ بندی پر عمل ہو گیا تو توکرین کو اپنی مشرقی سرحدیں واپس مل جائیں گی لیکن ایسا تب ہی ممکن ہو گا جب دونتسک اور لوہانسک میں یوکرین کے قانون کے مطابق انتخابات ہوں اور اس کی مرکزیت اور اصلاحات کے لیے جامع ڈیل طے پائے۔

اسی بارے میں