ارجنٹینا کی صدر کے خلاف بم حملوں کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اپنے خلاف لگے الزامات کی تردید کرتی ہیں اور ان تحقیقات کو اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتی ہیں

ارجنٹینا میں استغاثہ نے وفاقی جج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر کرسٹینا فرننڈز ڈی کرچنر کے خلاف ان الزامات کی تفتیش کریں جن کے مطابق انھوں نے سنہ 1994 میں ہونے والے بم دھماکوں میں ایرانی رابطوں کو چھپانے میں مدد کی ۔

استغاثہ گریڈو پولیسیٹا سے پہلے یہ مقدمہ البرٹو نیسمان کے پاس تھا جو مشکوک حالات میں مرے ہوئے پائے گئے۔

صدر اپنے خلاف لگے الزامات کی تردید کرتی ہیں اور ان تحقیقات کو اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتی ہیں۔

سنہ 1994میں ایک یہودی سنٹر پر ہونے والے حملے میں کم سے کم 85 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایران ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتا رہا ہے۔

استغاثہ کے اس نئے مطالبہ پر اب جج کو یہ طے کرنا ہے کہ صدر کے خلاف عائد ان الزامات کی نئے سرے سے تفتیش کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

اگر جج اور استغاثہ اس بات پر قائل ہو جاتے ہیں کہ اتنے سناصر موجود ہیں جو یہ ثابت کریں کہ صدر نے جرم کیا ہے تو ان کے خلاف نہ صرف مقدمہ قائم ہو جائے گا بلکہ انھیں سزا بھی ہوگی۔

سابق استغاثہ البرٹو نیسمان نے یہودی سنٹر پر ہونے والے حملوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔

انھوں نے صدر اور بعض دیگر افراد پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران سے تیل اور دیگر سامان کے لیے مطلوبہ کے معاہدے کے بدلے بم حملوں میں ایرانی مشتبہ افراد کو بچانے کے لیے حقائق چھپائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پہلے یہ مقدمہ البرٹو نیسمان کے پاس تھا جو مشکوک حالات میں مرے ہوئے پائے گئے

جنوری میں کانگرس کمیٹی کو اس سے متعلق شواہد فراہم کرنے سے چند گھنٹے قبل ہی البرٹو نیسمان کو سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

صدر کا کہنا ہے کہ البرٹو نیسمان انھیں بدنام کرنے کی کوشش میں بدمعاش سکیورٹی ایجنٹس کے ہاتھوں اپنے موت کا سب خود ہی بن گئے ہوں گے۔

البرٹو نیسمان کے بعد آنے والے استغاثہ گریڈو پولیسیٹا نے ایک دستاویز میں لکھا ہے کہ صدر کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔

گریڈو پولیسیٹا نے لکھا ہے کہ ’ ثبوتوں کی بنا پر ایک تفتیشی عمل شروع کیا جائے گا اور یہ طے کیا جائے گا کے ملزمان مجرمانہ اقدامات کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘

صدر فرننڈز کی کابینہ کے رکن نے عدالتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اس تحقیق کو آگے بڑھا کر صدر کے خلاف ’عدالتی بغاوت‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کو آگے بڑھانا ’جمہوریت کی متزلزل کرنے کی ایک واضح کوشش ہے۔‘

اسی بارے میں