’چاڈ میں بوکوحرام کے حملے میں دس افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائیجیریا کے جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتوں سے پڑوسی ممالک میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں

چاڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر نائیجیریا کے شدت پسند گروہ بوکوحرام کے جنگجوؤں نے چاڈ کی سرزمین پر اپنا پہلا حملہ کیا ہے۔

یہ حملہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کو کیا گیا۔

چاڈ کے سکیورٹی حکام کے مطابق جنگجو موٹر والی کشتیوں پر سوار تھے اور انھوں نے نائیجیریا اور چاڈ کی سرحد پر واقع ’جھیل چاڈ‘ کو عبور کرنے کے بعد جھیل کے کنارے واقع ایک دیہات پر حملہ کیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چاڈ کے فوجیوں کی جوابی کارروائی پر حملہ آور دیہات سے فرار ہو گئے، لیکن اس سے پہلے وہ کئی افراد کو ہلاک کر چکے تھے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں چاڈ نے نائیجیریا، نائیجر اور کیمیرون کے ساتھ فوجی اتحاد میں شامل ہو کر بوکوحرام کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔

مقامی لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ نگوبؤا نامی گاؤں پر حملہ کرنے والے لوگوں کی تعداد 30 کے لگ بھگ تھی اور انھوں نے گاؤں کے تقریباً دو تہائی گھروں کو آگ لگا دی۔

ایک مقامی شخص نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حملہ آور تین چھوٹی کشتیوں میں آئے تھے اور فوج کی جوابی کارروائی سے پہلے ہی وہ دس افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکے تھے۔

اگرچہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے تاہم چاڈ کے سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک مقامی سردار کو بھی مار دیا ہے۔

حکام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چاڈ کے فوج نے عسکریت پسندوں کی کشتیوں پر فضائی حملے کیے جس میں یہ کشتیاں تباہ کر دی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بوکوحرام کے خلاف کارروائی میں چاڈ کی فوج نے جھیل چاڈ پر نگرانی میں اضافہ کیا ہے

جنوری میں سرحد کی دوسری جانب نائیجیریا کے قصبے بگاہ پر حملے کے بعد سے تقریباً سات ہزار افراد نے وہاں سے فرار ہو کر نگوبؤا کے گاؤں میں پناہ لے لی تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے نائیجیریا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

بوکوحرام نے نائیجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی غرض سے 2009 سے مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس دوران ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں