’معاہدے کے چند گھنٹے بعد ہی مشرقی یوکرین میں گولہ باری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔

یوکرین میں جنگ بندی کا نیا معاہدہ طے پانے کے کچھ ہی گھنٹے بعد ملک کے مشرق میں باغیوں کے زیرِ قبضہ شہروں دونیتسک اور لوہانسک میں گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں۔

یہ دونوں شہر اس محاذ کے قریب واقع ہیں جہاں روس نواز باغی یوکرینی فوج سے برسرِپیکار ہیں۔

گولہ باری سے زخمی یا ہلاک ہونے والوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

یوکرین کے بحران کے خاتمے کے لیے یوکرین، روس، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے جمعرات کو ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے مطابق 14 اور 15 فروری کی درمیانی شب 12 بجے سے مشرقی یوکرین میں جنگ بندی ہو جائے گی۔

دونیتسک میں موجود غیرملکی صحافیوں نے جمعے کی صبح شہر میں گولے گرنے کی آوازیں سنیں جبکہ لوہانسک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر پر جمعرات کی شام بمباری ہوئی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل خبردار کر چکی ہیں کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والا معاہدہ اگر مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا تو یورپی یونین روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی رہنماؤں نے حکام سے کہا ہے کہ وہ روس پر مزید پابندیوں کا مسودہ تیار کر کے رکھیں تاکہ جنگ بندی کا نفاذ نہ ہونے کی صورت میں انھیں عائد کیا جائے۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

مشرقی یوکرین میں موجود روس نواز باغیوں نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ امن کے اس لائحۂ عمل میں غیر مسلح ہونا اور قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے، تاہم کلیدی معاملات اب بھی طے ہونا باقی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کے بحران کے خاتمے کے لیے یوکرین، روس، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے جمعرات کو ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے

اس خطے میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ادھر عالمی بینک نے جمعرات کو ہی کہا ہے کہ وہ رواں برس یوکرین کو عالمی امدادی پیکج کے تحت دو ارب ڈالر کی رقم فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

معاہدے کے اہم نکات:

  • جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق اتوار کو شروع ہو گی۔
  • علاقے سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کا آغاز 17 فروری سے ہو گا اور یہ دو ہفتوں میں مکمل ہو گا۔
  • تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور جنگ میں ملوث لوگوں کو معافی دی جائے گی۔
  • غیر ملکی تنصیبات، ہتھیار اور سپاہی یوکرین کی حدود سے نکل جائیں گے، اور تمام غیر قانونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
  • یوکرین پابندیوں کو ہٹا کر باغیوں کے علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی اجازت دے۔
  • باغیوں کے علاقوں کو مرکز میں لانے کے لیے 2015 کے اختتام تک آئینی اصلاحات کی جائیں۔
  • اگر 2015 کے اختتام تک تمام شرائط پوری ہو جائیں تو یوکرین روس کے ساتھ سرحدوں کو کنٹرول کرے۔

منسک سے بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن نے بتایا کہ یہ معاہدہ گذشتہ سال ستمبر میں طے پانے والے جنگ بندی کے اس معاہدے سے ملتا جلتا ہے جو بہت جلد ختم ہو گیا تھا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے بھی کہا ہے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔

فریقین میں وجہ تنازع دبلتسیو نامی قصبہ بھی ہے جہاں باغیوں نے سرکاری فوج کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور لڑائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ باغیوں کے زیرِ قبضہ دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں میں بھی خودمختار حکومت کے معاملے پر مزید بات ہونی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فریقین میں حالیہ لڑائی کا مرکز دبلتسیو نامی قصبہ بھی ہے جہاں باغیوں نے سرکاری فوج کا محاصرہ کیا ہوا ہے

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امید کی ایک کرن تو ہے لیکن اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں‘ جبکہ فرانسیسی صدر اولاند کا خیال ہے کہ ’آنے والے گھنٹے اہم ہوں گے‘۔

روس کے صدر پوتن نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے لیے رات بہترین نہیں تھی لیکن صبح اچھی ہے۔

امریکی صدر کے دفتر کی جانب سے بھی اس معاہدے کو ’اہم قدم‘ قرار دیا گیا ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے مشرقی یوکرین میں لڑائی جاری رہنے پر تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں کہا ہے فریقین اتوار کو معاہدے کے نفاذ سے قبل مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور دبلتسیو اور دیگر یوکرینی قصبات پر روسی اور علیحدگی پسند باغیوں کے حملے فوراً روک دیے جائیں۔

جان کیری اور آنگیلا میرکل دونوں نے کہا ہے کہ اگر منسک معاہدے کا احترام کیا گیا تو روس پر عائد پابندیاں اٹھائی جا سکتی ہیں۔

تاہم جرمن رہنما نے خبردار کیا کہ ’ہمارے پاس یہ راستہ کھلا ہے کہ اگر نئے معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو ہم مزید اقدامات کر سکتے ہیں۔‘

نامہ نگاروں کے مطابق نئی جنگ بندی میں باغیوں کو سابقہ جنگ بندی کی مانند چند ایسے علاقوں کو چھوڑنا ہوگا جو انھوں نے حاصل کیے لیکن حکومتی فوج اس فرنٹ لائن سے واپس چلی جائے گی اور جو علاقے جنوری کے بعد اس کے اختیار سے نکل گئے تھے وہ اس حتمی طور پر اس کے نہیں رہیں گے۔

اگر جنگ بندی پر عمل ہو گیا تو توکرین کو اپنی مشرقی سرحدیں واپس مل جائیں گی لیکن ایسا تب ہی ممکن ہو گا جب دونیتسک اور لوہانسک میں یوکرین کے قانون کے مطابق انتخابات ہوں اور اس کی مرکزیت اور اصلاحات کے لیے جامع ڈیل طے پائے۔

اسی بارے میں