برما: باغیوں کے ساتھ چھڑپوں میں کم ازکم 50 فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ لڑائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت باغیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہ رہی ہے

برما کے سرکاری میڈیا کے مطابق سرکاری فوجی دستوں اور کوکان باغیوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری لڑائی میں تقریباً پچاس فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

برما کے روز نامے ’گلوبل نیو لائٹ‘ کے مطابق چینی سرحد کے نزدیک شان ریاست میں جھڑپیں شروع ہونے کے بعد فضائی حملوں کا استعمال کیا گیا۔

برما میں بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال میں یہ اب تک کی سب سے شدید لڑائی ہے۔

یہ لڑائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت باغیوں کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہ رہی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ لڑائی سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگ علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ منگل کو اس کے سرحدی صوبے ینان میں کچھ لوگ سرحد پار سے داخل ہوئے ہیں۔

کوکانگ ایک چینی نسلی گروپ ہے اور چین کے ساتھ برما کی شمال مشرقی سرحدی پٹی میں عرصے سےانکا ایک خود مختار علاقہ ہے۔

لڑائی میں حالیہ تیزی کی وجہ گروپ کے رہنما فین کیا شِن کی وطن واپسی ہے جو پانچ برس سے چین میں جلا وطن تھے۔

فین کیا شِن ایکبار پھر کوکانگ لوگوں کے حقوق واپس دلوانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کوکانگ باغیوں کے ساتھ کم از کم تیرہ الگ الگ جھڑپیں ہوئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق باغیوں نے کوکانگ کے نزدیک فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں کم از کم 47 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں