امریکہ میں امیر کو امیر تر بنانے کی جستجو؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا چلا جا رہا ہے

امریکہ کو مواقع کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا وہاں غریبوں اور امیروں کی طبقاتی تقسیم والا معاشرہ وجود میں آ چکا ہے؟ کیا امریکہ معیشت صرف امیروں کو امیر تر بنائے چلے جا رہی ہے؟

معاشی بحران کے بعد امیر اور غریب میں فرق اب واضح ہوا ہے لیکن دونوں طبقوں کی آمدن میں فرق کئی عشروں سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

1950 کی دہائی میں امریکہ میں معاشی خوشحالی کا دور دورہ تھا، اور اس پھیلاؤ کے نتیجے میں حاصل ہونے والا پانچ فیصد حصہ ایک فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھ آیا۔

لیکن 2008 کے بعد سے حاصل کی جانے والی معاشی ترقی کا 95 فیصد چوٹی کے ایک فیصد افراد کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے، جب کہ بقیہ 95 فیصد آبادی صرف بقیہ پانچ فیصد پر گزارا کرتی ہے۔

عام طور پر کم شرحِ سود اور آسانی سے کمائی جانے والی دولت معاشی استحکام کا باعث بنتی ہیں، اور انھی سے سٹاک ایکسچینچ تقویت پاتا ہے۔

امریکی مارکیٹ نے 2008 کے بحران کے بعد سے متعدد نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والا اکثر سرمایہ صرف دس فیصد لوگوں کی جیب میں چلا جاتا ہے، کیونکہ یہی دس فیصد لوگ 91 فیصد سٹاک کے مالک ہیں۔

کسی زمانے میں ایسا نہیں تھا اور نصف کے قریب امریکیوں کے پاس سٹاک تھے۔

اس عدم مساوات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، لیکن اس کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا۔

1920 کے عشرے کے بعد سے عدم مساوات کم ہوئی، خاص طور پر 1950 اور 60 کی دہائیوں میں، جب فی کس آمدنی میں خاصا اضافہ ہوا۔ اس دور کو امریکی معیشت کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔

Image caption 2008 کے بعد سے حاصل کی جانے والی معاشی ترقی کا 95 فیصد چوٹی کے ایک فیصد افراد کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے، جب کہ بقیہ 95 فیصد آبادی صرف بقیہ پانچ فیصد پر گزارا کرتی ہے

لیکن 1970 کے آتے آتے آمدنی میں تقسیم بڑھنا شروع ہوئی اور 1980 کے عشرے میں بڑھتی چلی گئی۔

وجوہات

ہم نے اس عدم مساوات کی وجوہات جاننے کے لیے ماہرین سے بات کی، جن میں سابق امریکی وزیرِ محنت رابرٹ ریچ شامل تھے۔ ان کا موقف تھا کہ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ گلوبلائزیشن یعنی عالمگیریت کی وجہ سے اوسط معاوضے میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ماہر کاریگروں اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوا ہے، جب کہ درمیانے اور نچلے درجے کے ہنرمند افراد کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کی وجہ سے فرق بڑھا ہے۔

دوسری وجہ وہ ہے جسے ماہرین تکنیکی ہنر میں تبدیلی کا نام دیتے ہیں۔ جوں جوں امریکی معیشت کا انحصار ٹیکنالوجی پر بڑھتا جا رہا ہے، اس کا فائدہ وہی اٹھا رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں۔

ان دونوں میں تعلق ہے کیونکہ امریکہ تکنیکی میدانوں میں مہارت حاصل کرنے کے بعد ایسی چیزیں باہر سے منگوا لیتا ہے جنھیں بنانے میں زیادہ ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

رابرٹ ریچ کہتے ہیں کہ امریکہ میں مزدورں کی یونینیں کمزور پڑنے سے کارکنوں کے پاس اپنے معاوضے کو بڑھانے کی قوت کم ہوئی ہے۔

سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے شریک بانی ڈین بیکر کہتے ہیں کہ کم شرحِ سود کی پشت پناہی کرنے والی پالیسی سے نوکریوں پر اثر پڑتا ہے۔

صدر براک اوباما کے معاشی مشیروں کی کونسل کے چیئرمین جیسن فرمین کہتے ہیں کہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات ترقی یافتہ ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں اس عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے امیروں کے ٹیکسوں میں اضافہ اور غریبوں کے ٹیکس کم کرنے جیسی پالیسی متعارف کروائی، جب کہ موجودہ دور میں وہ کم از کم معاوضے کی شرح بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

تاہم بین کمپنی کے بانی ایڈ کونرڈ کہتے ہیں کہ ٹیکس بڑھانا مسئلے کا طویل مدت حل نہیں ہے، کیونکہ کہ اس سے کمپنیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فرق کیسے کم کیا جائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشہور فرانسیسی ماہرِ معاشیات ٹامس پکٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ بین الاقوامی ٹیکسوں کا نظام نافذ کیا جائے

تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ڈیوڈ ایزیریڈ کا خیال ہے کہ اگر امیروں نے دولت غیرقانونی طریقے سے نہیں کمائی تو پھر عدم مساوات پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

ریچ اور بیکر نے اس کا جواب یوں دیا کہ مسئلہ اچھی آمدن کا موقع ملنے کا ہے، اور معیشت کے تبدیل شدہ ڈھانچے نے ایسا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

مشہور ماہرِ معاشیات ٹامس پکٹی نے اس مسئلے کو بین الاقوامی بناتے ہوئے ایک عالمی ٹیکس کی تجویز پیش کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر عالمگیریت کی قوتیں اور تکنیکی تبدیلی وغیرہ کی وجہ سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے تو ٹیکسوں کے نظام کی مدد سے دولت کی ازسرِ نو تقسیم کی جانی چاہیے۔

امریکی خواب کا خاتمہ؟

ماہرین میں اس بات پر اختلاف تھا کہ حکومت کو اس معاملے میں کس حد تک کردار ادا کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ایڈ کونرڈ کا خیال ہے کہ حکومتی مداخلت کی بجائے تجارت کے نظام کو بہتر بنا کر اس مسئلے کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔

سینٹر فار امریکن پراگریس کی جینیفر ایریکسن نے اس بات کی مخالفت کی کہ معاوضوں کا معاملہ اس قدر اہم ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ حکومت کو عدم مساوات کم کرنے کے سلسلے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس تمام بحث میں ایک بات سامنے آئی کہ امیروں کے امیر تر ہوتے چلے جانے سے متوسط طبقہ دباؤ کا شکار ہوا ہے۔

امریکہ اپنے آپ کو مواقع کی سرزمین کہتا ہے جہاں ہر کوئی ایسا گھر تعمیر کر سکتا ہے جس کے باہر سفید جنگلہ لگا ہو۔ تاہم معاشی ماحول تبدیل ہو جانے سے بہت سے امریکیوں کے لیے اس خواب تک رسائی حاصل کرنی مشکل ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں