جنگ بندی کے معاہدے کو زبردست خطرہ لاحق ہے:یوکرینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس نواز باغیوں کو یوکرین فوج کی جانب حملہ کرتے دیکھا گیا ہے

یوکرین میں سنیچر کی شب ہونے والی جنگ بندی سے قبل ملک کے مشرقی علاقے میں شدید لڑائی کے بعد یوکرینی صدر نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کو زبردست خطرہ لاحق ہے۔

صدر پیٹرو پوروشینکو نے جمعرات کو منسک میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود روس پر حملے میں واضح اضافے کا الزام لگایا ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے سرحد پار روس کی جانب سے بھاری اسلحوں کی آمد کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جمعے کو گولہ باری اور فائرنگ میں تقریباً ایک درجن شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ گولہ باری کس نے کی تاہم یوکرین فوج اور مشرقی دونیتسک اور لوہانسک پر قابض روس نواز باغیوں نے ایک دوسرے پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ منسک میں ہونے والے معاہدے کے مطابق جنگ بندی میں 24 گھنٹے سے بھی کم کا وقت بچا ہے لیکن جنگ کسی طور رکتی نظر نہیں آتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعرات کو منسک میں یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہوا ہے اور یہ سنیچر کی نصف شب کو شروع ہو رہا ہے

اطلاعات کے مطابق شدید جنگ دیبالتسیو کے اطراف میں جاری ہے اور یہ عسکری لحاظ سے باغیوں کے قبضے والے علاقے میں ایک اہم جگہ ہے۔

یوکرین کے نائب وزیر دفاع پیٹرو میخید کا کہنا ہے کہ ’باغی نصف شب کی جنگ بندی سے قبل دیبالتسیو اور ساحلی شہر میریوپول پر اپنا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔‘

واضح رہے کہ جنگ بندی گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق سنیچر کی رات 10 بجے شروع ہو رہی ہے۔

انھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا: ’یوکرین کو جنگ میں اضافے کا اندازہ ہے اور وہ جوابی کارروائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔‘

کیئف کے زیر کنٹرول علاقائی حکام کے مطابق لوہانسک کے قریب ششتیا کے ایک کیفے میں باغیوں کی فائرنگ میں جمعے کو دو افراد ہلاک ہو گئے جبکہ دیبالتسیو کے پاس آرتیمیوسک میں ایک سکول کے پاس ایک بچہ ہلاک ہوگيا۔

جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ دونیتسک کے قصبے ہورلیوکا میں گولہ باری میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے حکومت کے فوجیوں کو شہر میں شیلنگ کا الزام لگایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی کے معاہدے سے قبل شدید جنگ کی اطلاعات ہیں

صدر پوروشینکو نے کہا: ’ہم نے منسک میں جو حاصل کیا اس کی رو سے یہ شیلنگ نہ صرف یوکرین کے شہریوں اور شہری آبادیوں کے قرب وجوار پر حملہ ہے بلکہ بغیر کسی تشریح کے یہ منسک کی کامیابی پر حملہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’منسک کے بعد بد قسمتی سے روس کے جارحانہ آپریشن میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں ابھی بھی یہ لگتا ہے کہ منسک کی کامیابی کو بڑا خطرہ درپیش ہے۔‘

دریں اثنا میریوپول کے قریک حکومت کی جانب سے جارحیت جاری ہے۔ یہ شہر باغیوں کے قبصے والے مشرقی علاقے اور جنوبی کریمیا کے علاقے کے درمیان ہے۔

یاد رہے کہ کریمیا کے علاقے کو روس نے گذشتہ سال مارچ میں اپنے میں علاقوں میں شامل کر لیا تھا۔

اسی بارے میں