’میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خطاب سے پہلے ہونے والی دعوت میں دستیاب شراب کو ’نہ نہیں کر سکیں‘

امریکی سپریم کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گنزبرگ نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی صدر کے ’سٹیٹ آف دا یونین‘ کے خطاب میں ان کے سونے کے پیچھے ایک وجہ ہے۔

اپنی ساتھی آنٹونن سکالیا کے ساتھ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ ’میں پوری طرح اپنے ہوش میں نہیں تھی‘۔

انھوں نے کہا کہ وہ خطاب سے پہلے ہونے والی دعوت میں دستیاب شراب کو ’نہ نہیں کر سکیں‘۔

اکیاسی سالہ جسٹس روتھ امریکی سپریم کوٹ کی سب سے زیادہ عمر کی جج ہیں۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں ایک مباحثے کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ وہ صدر کے خطاب کے دوران بار بار کیوں سو رہی تھیں۔

بیس جنوری کو امریکی صدر اوباما نے ایوان نمائندگان میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کیا جس کے دوران جسٹس روتھ کی اونگھتے ہوئے تصاویر سامنے آئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ justice
Image caption اکیاسی سالہ جسٹس روتھ امریکی سپریم کوٹ کی سب سے زیادہ عمر کی جج ہیں

انھوں نے کہا کہ ’حاضرین تو زیادہ تر اٹھے ہوتے ہیں اور ہر بات سن رہے ہوتے ہیں۔ اور ہم بنا کسی تاثرات کہ اور مکمل ہوش و حواس کہ وہاں بیٹھے ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔‘

’سٹیٹ آف دا یونین میں جانے سے پہلے میں اپنے مکمل ہوش س حواس میں نہیں تھی۔‘

جسٹس روتھ کہتی ہیں کہ کئی سال پہلی بھی وہ کسی خطاب کے دوران سو گئی تھیں جس کے بعد انھوں نے عزم کیا تھا کہ وہ آئندہ دعوت میں صرف پانی پیئیں گی۔ لیکن جسٹس آنڈرو کی لائی ہوئی ’بہترین کیلی فورنیا کی شراب‘ کی وجہ سے وہ اپنے آپ بر قابو نہ رکھ پائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کھانا اتنے مزا کا تھا کہ اس کے بعد شراب کی ضرورت تھی۔‘

جسٹس روتھ نے کہا کہ ماضی میں جب وہ کہیں اونگھ رہی ہوتی تھیں تو سابق جسٹس ڈیوڈ سوٹر انھیں کہنی مارتے تھے لیکن اس بار ان کے ساتھ بیٹھے جسٹس صاحبان نے ایسا کرنے کی ہمت نہیں کی۔

اسی بارے میں