’دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں 21 مصری قبطی عیسائیوں کی ہلاکت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں 80 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ کے قریب قبطی عیسائی بستے ہیں

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لیبیا سے اغوا کیے جانے والے 21 مصری قبطی عیسائیوں کے ’سر قلم کر دیے گئے ہیں‘۔

اس ویڈیو کی فوٹیج دکھاتی ہے کہ ایک گروپ جو نارنجی رنگ کے لباس میں ہے کو زمین پر گھنٹے ٹیکے دکھایا گیا ہے جس کہ بعد اُن کے سر قلم کر دیے گئے ہیں۔

یہ ویڈیو لیبیا کے جہادیوں نے پوسٹ کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے منسلک ہیں۔

مصر سے ان قبطی عیسائیوں کی شناخت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے مگر حکومت نے سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے لیبیا میں کئی حملے کیے ہیں جہاں کوئی بھی موثر حکومت نہیں ہے مگر لیبیا میں کئی مسلح گروہوں کی موجودگی میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصری صدر کے مطابق مصر اس حرکت کا جب چاہے اور جیسے چاہے، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مصر کے صدر نے اس ہفتے کے شروع میں لیبیا میں پھنسے اپنے شہریوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے نکالنے کی پیشکش کی تھی۔

اغوا کیے جانے والے تمام کارکن قبطی عیسائی تھے جنہیں لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر سرت سے اغوا کیا گیا تھا جو دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔

ان افراد کی رہائی کے لیے مصر میں مظاہرے کیے گئے اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں زیادہ کام کرے۔

جمعے کو دولتِ اسلامیہ نے مصریوں کی تصاویر جاری کی تھیں جس میں لکھا گیا تھا کہ انہیں اغوا کرنے کا مقصد مصری قبطی عیسائیوں کی جانب سے مسلمان خواتین پر تشدد اور انہیں ہلاک کرنے کا بدلہ لینا ہے۔

مصر کی حکومت نے اپنے لوگوں کو لیبیا کا سفر کرنے سے منع کیا ہے مگر پھر بھی لوگ وہاں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں۔