’عالمی برادری بھی لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصری صدر کے مطابق مصر اس حرکت کا جب چاہے اور جیسے چاہے، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

لیبیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد مصر نے عالمی برادری سے بھی لیبیا میں اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کا کہنا ہے کہ لیبیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے لیبیا میں کئی حملے کیے ہیں جہاں کوئی بھی موثر حکومت نہیں ہے مگر لیبیا میں کئی مسلح گروہوں کی موجودگی میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے۔

مصری صدر نے اس سلسلے میں پیر کو فرانسیسی صدر اور اطالوی وزیرِ اعظم سے فون پر بات چیت کی اور مصر کے وزیرِ خارجہ سمیع شکری کو اقوامِ متحدہ کے حکام سے بات چیت کے لیے نیویارک بھیجا ہے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر حالات جوں کے توں رہنے دیے گئے تو خطرے میں اضافہ ہوگا اور اس لیے (لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف) ’فوری اور مؤثر‘ کارروائی کی ضرورت ہے۔

وزارتِ خارجہ نے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کرنے والے عالمی اتحاد سے مصر کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر میں مغوی عیسائیوں کی بازیابی کے لیے مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

مصر کے جنگی طیاروں نے پیر کی صبح لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے کیمپس، تربیتی مراکز اور گولہ بارود اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ بمباری دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں لیبیا سے اغوا کیے جانے والے 21 مصری قبطی عیسائیوں کی ہلاکت کی ویڈیو جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گروپ جو نارنجی رنگ کے لباس میں ہے، زمین پر گھنٹے ٹیکے بیٹھا ہے جس کہ بعد اُن کے سر قلم کر دیے جاتے ہیں۔

یہ ویڈیو لیبیا کے جہادیوں نے پوسٹ کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے منسلک ہیں۔

ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد مصری صدر عبدالفتح السیسی نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس حرکت کا جب چاہے اور جیسے چاہے، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

مصری حکام نے ان قبطی عیسائیوں کی شناخت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی مگر حکومت نے سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر میں 80 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ کے قریب قبطی عیسائی بستے ہیں

مصر کے صدر نے اس ہفتے کے شروع میں لیبیا میں پھنسے اپنے شہریوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے نکالنے کی پیشکش کی تھی۔

مصر کی قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد صدر السیسی نے ٹی وی پر نشر کیے گئے خطاب میں کہا ہے کہ ’مصر اور پوری دنیا اس وقت ان شدت پسند گروپوں سے برسرِپیکار ہیں جو انتہائی متشدد نظریے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کا پرچار کر رہے ہیں۔‘

قاہرہ کی جامعۂ الازہر کی جانب سے قبطی عیسائیوں کی ہلاکت کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ کاپٹک چرچ کا کہنا ہے کہ اسے ’یقین‘ ہے کہ مصر موثر جواب دے گا۔

اغوا کیے جانے والے قبطی عیسائیوں کو لیبیا کے مشرقی ساحلی شہر سرت سے اغوا کیا گیا تھا جو دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔

جمعے کو دولتِ اسلامیہ نے مصریوں کی تصاویر جاری کی تھیں جس میں لکھا گیا تھا کہ انہیں اغوا کرنے کا مقصد مصری قبطی عیسائیوں کی جانب سے مسلمان خواتین پر تشدد اور انہیں ہلاک کرنے کا بدلہ لینا ہے۔

امریکہ کی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ نے گذشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ لیبیا سمیت ایسے کئی ممالک میں قدم جمانے کے لیے کوشاں ہیں جہاں حکومتی عمل داری مضبوط نہیں۔

اسی بارے میں