امریکہ: پاکستانی پر القاعدہ کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption اس مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے

امریکہ میں برطانیہ سے جلاوطن کیے جانے والے ایک پاکستانی شخص پر مانچسٹر اور نیویارک میں حملے کرنے کی القاعدہ کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکہ میں سرکاری وکیل سلیا کوہن نے نیو یارک کی ایک عدالت میں 28 سالہ عابد نصیر پر برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں دہشت گردوں کا سیل چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

عابد نصیر جو عدالت میں اپنا دفاع خود کر رہے ہیں انھوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ جہادی اور شدت پسند سوچ نہیں رکھتے۔

الزامات ثابت ہونے جانے کی صورت میں عابد کو عمر قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

اس مقدمے میں جیوری کے سامنے برطانوی انٹیلی جنس کے چھ افسران کو گواہان کے طور پر پیش کیا جائے گا لیکن ان کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے لیے انھیں سروں پر وگ اور منہ پر میک اپ کر کے عدالت میں لایا جائے گا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ عابد نصیر ایک سازش میں ملوث تھا جس کے تحت مانچسٹر اور نیویارک کے زیر زمین ریلوے سمیت کئی جگہوں پر بم دھماکے کیے جانے کا منصوبہ بنا گیا تھا۔

ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ القاعدہ کی عملی مدد کر رہے تھے اور تباہ کن مواد استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

دو ملزماں ، نجیب اللہ اور زریں احمد زئی جنہوں نے اس سازش میں اپنا جرم قبول کر لیا ہے وہ متوقع طور پر عابد نصیر کے خلاف گواہی دیں گے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں ملزماں القاعدہ کے کسی رکن سے رابطے میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption عابد نصیر نے اپنے خلاف الزام کی صحت سے انکار کیا ہے

وکیل کوہن کا کہنا ہے کہ نصیر نے خفیہ ای میلز کےذریعے مانچسٹر میں ایک شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کی بات کی۔

اسامہ بن لادن کے گھر سے برآمد ہونے والی ایک دستاویز میں بھی نصیر کے مانچسٹر اور نیویارک میں حملے کرنے کا ذکر ہے۔

عابد نصیر نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا ہے کہ مقدمے میں پیش کیے جانے والے شواہد سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ القاعدہ کا رکن ہے۔

عابد نصیر ان ایک درجن افراد میں شامل ہے جن کو سنہ 2009 میں برطانیہ میں مانچسٹر کے شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کی سازش کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ملزمان کے پاس سے کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا تھا لیکن ان افراد کو جلا وطن کر دیا گیا تھا۔

عابد نصیر کو جلا وطن کرکے پاکستان واپس بھیجے جانے کو ایک جج نے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ ہو سکتا ہے انھیں وہاں جان کا خطرہ لاحق ہو۔

عابد نصیر نے کہا کہ وہ برطانیہ ڈگری حاصل کرنے گئے تھے نہ کہ دہشت گردی کرنے۔

برطانوی حکام نے انھیں سنہ 2010 میں امریکی حکام کے کہنے پر دوبارہ گرفتار کیا تھا۔ یورپی ہیومن رائٹس کمیش میں ایک اپیل مسترد ہونے کے بعد عابد نصیر کو امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں