چیپل ہل: ہکس پر تین مسلمانوں کے قتل کا جرم ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس کو ابھی تک یہ شواہد نہیں ملے ہیں کہ کریگ ہکس نے مذہبی منافرت کے تحت یہ قتل کیے

امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں ایک گرینڈ جیوری نے 46 سالہ کریگ ہکس کو تین مسلمان طلبہ کے قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 46 سالہ کریگ ہکس نے پارکنگ کے متعلق ایک تنازعے پر گولی چلائی۔

تاہم انھوں نے اس امکان سے انکار نہیں کیا ہے کہ قتل کا محرک مذہبی منافرت بھی ہو سکتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب ہکس نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا تو ان کے گھر سے 12 ہتھیار برآمد کیے گئے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے خود کو آن لائن پر ’بندوق بردار‘ بے دین کہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ اس واردات سے قبل انھوں نے ایک شادی شدہ جوڑے کو بھی پریشان کیاتھا۔

اس واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے لیکن ہکس کی اہلیہ کیرن نے کہا ہے کہ اس حملے میں مذہب کا کوئی دخل نہیں کیونکہ ان کے شوہر کے لیے سب برابر ہیں۔

ضیا شادی برکات ان کی اہلیہ یسر محمد ابو صالحہ اور ان کی اہلیہ کی بہن رزان محمد ابو صالحہ ایک ہفتے قبل نارتھ کیرولینا یونیورسٹی کے قریب چیپل ہل میں اپنےگھر میں مردہ پائے گئے۔

ان تینوں کو سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

ہکس ان تینوں کے پڑوسی تھے اور انھیں ان کے قتل کے الزام میں چار مارچ کو عدالت میں حاضر ہونا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونیورسٹی کے طلبہ نے ان سے اظہار عقیدت اس طرح کیا

اس وقت وہ غیر ضمانتی حراست میں جیل میں ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کو اس قتل کو ’وحشیانہ اور شرمناک‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا ایف بی آئی اس معاملے کی تحقیقات کرے گي کہ ’آیا کسی وفاقی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔‘

ان تینوں طالب علموں کے جنازے میں جمعرات کو پانچ ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی۔

اسی بارے میں