ایرانی وزیر خارجہ کو’مُسکرانے کی ہدایت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران اور چھ عالمی طاقتوں جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین شامل ہیں کے درمیان جاری مذاکرات نومبر 2014 میں اختتام پذیر ہونا تھے لیکن کوئ جامع اور وسیع معاہدہ نا ہو سکا

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کے وزیرِ خارجہ کو ملک کے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی مذاکرات کے دوران مسکرا کر بات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ خارجہ جاوید ظریف کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے انہیں مذاکرات کے دوران آواز بلند کرنے کی بجائے اپنا موقف مسکراہٹ کے ساتھ بیان کرنے کو کہا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای تک شاید یہ اطلاع پہنچ گئی ہے کہ جاوید ظریف دورانِ مذاکرات امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سے زیادہ بلند آواز میں بات کرتے ہیں یہاں تک کہ کئی بار ان کے محافظ کو کمرے میں جھانک کر دیکھنا پڑتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک تو ہے۔

جاوید ظریف نے ایک سکول کے دورے کے دوران طلبہ کو بتایا کہ جب وہ آیت اللہ خامنہ ای سے ملے تو انہوں نے پوچھا: ’آپ مذاکرات کے دوران چیختے کیوں ہیں؟ آپ نے جو کچھ کہنا ہو اسے مسکراہٹ کے ساتھ کہا کیجیے۔بحث کرنے کی بجائے منطق کے ساتھ گفتگو کیا کیجیے۔‘

جنوری کے مہینے میں جاوید ظریف پر جان کیری کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنے پر ایران کے سخت گیر رہنماؤں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی تھی۔ قدامت پسند اراکینِ پارلیمان نے مطالبہ کیا تھا کہ جاوید ظریف ایوان میں آ کر اس تصویر کی وضاحت کریں جس میں وہ اور جان کیری جینیوا میں اکٹھے چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم ایران کے صدر حسن روحانی نے شکایت کرنے والوں کی گوشمالی کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مذاکراتی ٹیم پر تنقید ایران کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں، جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین شامل ہیں، کے درمیان جاری مذاکرات نومبر 2014 میں اختتام پذیر ہونا تھے لیکن فریقین کے درمیان کوئی جامع اور وسیع معاہدہ طے نہ ہو سکا، تاہم ان ممالک کو امید ہے کہ 30 جون تک ایک حتمی معاہدہ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں