پیرس میں یہودیوں کا جینا کتنا حرام؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زویکا کلین مشہور ایفل ٹاور کے سامنے اپنی مخصوص یہودی ٹوپی کے ساتھ

پیرس کتنا نسل پرست ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب معلوم کرنے کی غرض سے ایک اسرائیلی صحافی زویکا کلین نے پیرس کا رخ کیا۔

اپنے اس سفر کے لیے انھوں نے یوٹیوب پر موجود اس مشہور سلسلے کا سہارا لیا جس میں مختلف صارفین نے اپنے تجربات ’۔۔۔۔ میں 10 گھنٹے‘ کے عنوان کے تحت بیان کیے ہیں، جس میں لوگ ایک خفیہ کیمرے کی مدد سے کسی شہر میں دس گھنٹے گھوم پھر کر دیکھتے ہیں کہ ان کے حلیے کی بنیاد پر ان سے اس شہر کے لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔

یوٹیوب پر اس سلسلے کا آغاز گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت ہوا تھا جب خفیہ کیمرے کی مدد سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایک خاتون کے ساتھ نیویارک کی سڑکوں پر کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس ویڈیو کو تقریباً چار کروڑ مرتبہ دیکھا گیا اور اس کے بعد سے یوٹیوب پر اس قسم کی ویڈیوز کی بھرمار ہو چکی ہے۔

صحافی زویکا کلین نے اس فلم کے لیے فرانس کے دارالحکومت پیرس کا رخ کیا جہاں وہ سر پر یہودیوں کی مخصوص ٹوپی رکھ کر ایفل ٹاور سے لیکر شہر کے مختلف گلی محلوں میں پھرتے رہے۔

ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے کہ زویکا کلین کو ان دس گھنٹوں میں خاصی تنقید اور گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پیرس کے مقامی لوگ انھیں گھورتے رہے اور کچھ نے پر تُھوکا بھی۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ’یہودی، یہودی‘ اور ’فلسطین زندہ باد‘ کے فقرے اور نعرے کسے۔

یہ دس گھنٹے طویل ویڈیو فروری کے ابتدائی دنوں میں بنائی گئی تھی اور زویکا کلین کے بقول اس کی کانٹ چھانٹ کر کے انہوں نے یوٹیوب پر جو فلم اپ لوڈ کی اس کا دورانیہ 90 سیکنڈ ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران اس ویڈیو کو ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور اس تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زویکا کلین نے بتایا کہ وہ ایک اسرائیلی ویب سائٹ ’این آر جی‘ سے منسلک ہیں اور اس ویڈیو کے لیے خصوصی طور پر وہ اسرائیل سے فرانس پہنچے تھے۔

بی بی سی کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم زویکا کلین یا اس سلسلے کی دوسری ویڈیوز کی تصدیق یا تردید کر سکیں تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز ان شہروں کے حالات کی غلط عکاسی کرتی ہیں۔

مثلاً مسٹر کلین کی ویڈیو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو پیرس کے غریب محلوں میں بنائی گئی ہے جہاں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ دیکھ کر مسٹر کلین پر الزام لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایسا دانستہ طور پر کیا تا کہ یہ دکھایا جا سکے کہ ان علاقوں میں یہودیوں کے بارے میں بہت برے جذبات پائے جاتے ہیں۔

لیکن مسٹر کلین اس اعتراض کو نہیں مانتے۔

’اگر میں اسرائیلی پرچم اٹھائے ہوئے ان گلیوں میں گھوم رہا ہوتا تو میں سمجھتا کہ میری جانب لوگوں کا رویہ منفی ہی ہو گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ محض یہودی طرز کی ٹوپی پہنے شخص کو دیکھ کر لوگوں کا ردعمل اتنا منفی ہونا چاہیے۔‘

تو کیا یہودی افراد کو پیرس کے تمام علاقوں میں ایسے ہی منفی رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟

بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں مسٹر کلین کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں۔ ہر جگہ ایسا نہیں ہو رہا۔‘ ان کے بقول انھوں نے شہر کے مرکزی علاقوں، ایفل ٹاور اور شانزالیزے وغیرہ میں ایسا نہیں دیکھا۔ اگرچہ وہاں بھی انھیں ’چھوٹے موٹے‘ تعصب کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ ایسا نہیں تھا کہ اسے ویڈیو میں جگہ دی جاتی۔

’جوں جوں ہم شہر کے نواحی علاقوں، یا شہر کے کچھ مخصوص محلوں میں گئے اسی قدر لوگوں کے جملوں میں شدت بڑھتی گئی۔

فلم بندی کے دوران اگرچہ ایک محافظ مسٹر کلین کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، تاہم پیرس کے کسی بھی علاقے میں بات زبانی فقرے بازی سے آگے نہیں بڑھی۔

’مجھے یقین تھا کہ مجھ پر جسمانی تشدد ہو گا، لیکن ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔‘

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کچھ لوگوں نے مسٹر کلین کو تنگ کرنے کی کوشش کی تو دوسرے مقامی لوگوں نے ان کا دفاع کیا اور ایک جگہ تو لوگوں نے ان سے دوستانہ انداز میں گپ شپ بھی کی۔ لیکن ان مناظر کی ویڈیو نہیں بنائی گئی اور نہ ہی انہیں یوٹیوب پر لگائے جانے والے 90 سیکنڈ کے ٹکڑے میں شامل کیا گیا۔

پیرس اور گذشتہ ہفتے ڈنمارک میں یہودی افراد پر حملوں کے بعد سے یورپ میں کچھ یہودیوں کا خیال ہے کہ وہ یہاں غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔

ویڈیو کے حوالے سے یہودیوں کے خلاف منافرت کی روک تھام کرنے والی ایک تنظیم (ایم جے ایل ایف) کے صدر مارک کونزاٹی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ ویڈیو دیکھ کر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ پیرس میں یہودیوں سے نفرت ’بڑھ رہی ہے۔‘

’اب لوگ کُھلے عام یہودیوں کے خلاف بات کرتے نہیں گھبراتے۔‘

تاہم مارک کونزاٹی صحافی مسٹر کلین کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہودیوں سے نفرت کے جذبات عموماً پیرس کے چند شمالی اور مشرقی محلّوں تک محدود ہیں۔

مارک کونزاٹی نے یہ بات بھی زود دے کر کہی کہ ان کے خیال میں پیرس کے مسلمانوں اور دوسرے اقلیتی لوگوں کو بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔

اسی بارے میں