افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں 22 فیصد اضافہ

Image caption 2009 سے 2014 تک افعانستان میں 47 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جن شہریوں کی تعداد 17774 ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2014 میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں 22 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جو گذشتہ چھ سال میں ایک ریکارڈ ہے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مددگار ادارے، یو این اے پی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحارب گروہوں میں جنگ کے نتیجے میں3,605 شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یو این اے پی نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ ہائی کمشنر کے تعاون سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے افغان جنگ سے متاثرہ شہریوں کے کوائف اکھٹے کرنے کا آغاز 2009 میں ہوا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ چھ سال کے عرصے میں افغان جنگ میں 47 ہزار 745 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 17774 افغان شہری تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 29971 ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال نصب شدہ بموں اور دیگر طریقوں کی نسبت زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئییں۔

بتایا گیا ہے کہ ’54 فیصد شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کا باعث زمینی آپریشنز ہیں اور یہ افغان بچوں اور خواتین کی موت کا سب سے بڑا سبب بنا۔‘

ان زمینی کارروائیوں میں زمینی جنگ میں موجود گروہوں کی جانب سے بارودی ہتھیاروں کا نظام استعمال ہوا جن میں مارٹر گولے، راکٹ اور دستی بم شامل ہیں۔

Image caption 54 فیصد شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کا باعث زمینی آپریشنز ہیں اور یہ افغان بچوں اور خواتین کی موت کا سب سے بڑا سب بنا

یو این اے پی نے لکھا ہے کہ ان ہتھیاروں کو اکثر اوقات گنجان شہری علاقوں میں استعمال کیا گیا جن کے آبادی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔

اس کے علاوہ 2014 میں حکومت مخالف عناصر کی طرف سےبلا کسی تخصیص کے دیسی ساختہ بموں کے استعمال اور خودکش حملے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے کا سبب بنے۔

یو این اے ایم اے کے سربراہ نکولس ہیسم کے مطابق ’2014 میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں میں اضافہ افغان شہریوں کے تحفظ کے عزم میں ناکامی کا ثبوت ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ میں شامل فریقین کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے شہریوں پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انھیں اس کی ذمہ داری تسلیم کرنی چاہیے، شہریوں کا تحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور اس کے لیے جو دعوے کیے جاتے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔‘

نکولس ہیسم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی تعداد کو 2015 میں حقیقی معنوں میں کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کے ذمہ دار حکومت مخالف عناصر ہی رہے۔

تناسب کے اعتبار سے 72 فیصد واقعات کے ذمہ دار حکومت مخالف عناصر، 14 فیصد کے ذمہ دار حکومتی فوج رہی جن میں 12 فیصد کارروائیاں افعان نیشنل سکیورٹی فورس کی جانب سے کی گئیں جبکہ دو فیصد کارروائیاں افغانستان میں موجود بین القوامی افواج کی جانب سے عمل میں آئیں۔

حکومت مخالف عناصر اور افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کے درمیان 10 فیصد ایسی کارروائیاں ہوئیں جن میں شہری ہلاک یا زخمی تو ہوئے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی ذمہ داری کس فریق پر عائد ہوتی ہے۔

اسی طرح تین فیصد ہلاکتیں جنگ کے بعد کسی علاقے میں موجود بارودی مواد کی وجہ سے ہوئیں اور ایک فیصد ہلاک یا زخمی ہونے والے ایسے ہیں جو سرحدی علاقوں میں ہونے والی گولہ باری کا نشانہ بنے۔

یو این اے ایم اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد مسلسل بنیادوں پر ملنے والی فضائی امداد کے بعد ادارے نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ افغان فورسز اور حکومت مخالف عناصر کے درمیان شہری آبادیوں میں زمینی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ۔

تحریری بیان کے مطابق ملک کے شمال، شمال مشرق اور جنوب مشرقی علاقوں میں حکومت کے حامی مسلح گروہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کیں۔

اسی بارے میں