ترکی میں عورت ہونا کتنا مشکل ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Rengin Arslan
Image caption بی بی سی ترکی سروس کی رنجن ارسلان نے ایک ترک خاتون ہونے کی حیثیت سے درپیش مسائل کا احاطہ کیا ہے

ترکی میں 20 سالہ طالبہ کے بے رحمانہ قتل کے خلاف مظاہروں کی لہر کے بعد بی بی سی ترکی سروس کی رنجن ارسلان نے ایک ترک خاتون ہونے کی حیثیت سے درپیش مسائل کا احاطہ کیا ہے۔

میں انتالیہ نامی ایک چھوٹے سے شہر میں پلی بڑھی اور 16 سال قبل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے استنبول آئی۔ جیسے جیسے برس گزرتے گئے اور میں نے مختلف علاقوں سفر کرنا شروع کیا تو معاشرے نے مجھے باور کروایا کہ میں ایک عورت ہوں۔ یقین کریں یہ بالکل آسان نہیں تھا۔

جب میں بچی تھی تو مجھے کوئی خوف نہیں تھا۔ میرے والدین نے مجھے اور میری بہن کو بہت دانش مندی سے پروان چڑھایا۔ انھوں نے کبھی کوئی ایسا خیال ہم پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی جس سے وہ یہ بتایا چاہیں کہ کہاں محتاط رہنا ہے کہ لڑکیاں ہونے کے ناطے ہمیں کس چیز سے پریشان ہونا چاہیے۔ گو کہ مجھے یقین ہے کہ ان کے اپنے طریقۂ کار ہوں گے ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے۔

لیکن میں ایسے کئی دوسری والدین کو جانتی ہوں جو کئی طرح سے یہ کام کرتے ہیں۔ میں صرف 10 برس کی تھی۔ لڑکوں کے ساتھ کھیلنا میرے ہمسائے میں ایک مسئلہ تھا۔ یہ بات مجھے اس وقت پتا چلی جب میری بہترین سہیلی کو لڑکوں کے ساتھ کھیلنے سے منع کر دیا گیا، میں کافی پریشان تھی۔ میں نے اپنی ماں سے اس بارے میں پوچھا۔ مجھے آج بھی ان کا جواب یاد ہے۔ ’تم سب انسان ہو اور بہن بھائی ہو۔ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بعض ترک والدین اپنی بچیوں کو لڑکوں کے ساتھ کھیلنے سے منع کرتے ہیں

اس کے بعد سے میری ماں کی بدولت صنفی برابری جیسے میرے خون میں شامل ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ وہ جس معاشرے میں رہتی ہیں وہ اسے اچھی طرح جانتی ہیں۔

17 برس کی عمر میں میں نے استنبول کی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے گئی۔ میں ترکی سے سب سے بڑے شہر میں رہنے جا رہی تھی اور بھی بالکل اکیلی۔ میری ماں روک نہیں سکتی تھیں لیکن وہ خوشی کے آنسو نہیں تھے۔ وہ مسلسل ایک بات کہہ رہی تھیں ’اگر اسے کچھ ہو گیا تو؟ یہ صرف 17 برس کی ہے۔ یہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتی۔‘ وہ کئی دن تک روتی رہیں۔

میں نے ان کے خدشات کو نظر انداز کیا۔ میں خوفزدہ نہیں تھی۔ اس وقت انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ میں اپنی حفاظت کر سکتی ہوں۔

جب میں 16 برس کی تھی جب ایک روز اپنی ایک سہیلی کہ ہمراہ تھیٹر میں ڈارمہ دیکھنے کے بعد واپس آ رہی تھی۔ مجھے احساس ہوا ایک شخص ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ ہم ایک رہائشی عمارت میں چھپ گئے اور 30 منٹ تک وہیں رہے۔

اپنی ماں کے اندیشے کے باوجود میں استنبول آ گئی۔ یہ شہر حیران کر دینے کی حد تک خوبصورت تھا۔ یہاں دیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ لیکن مجھے یہ سمجھنے میں ایک سال ہی لگا کہ اس شہر کی خوبصورتی کو محفوظ رہ کر صرف دن کے اوقات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے یا ایسے اوقات میں جب سڑکیں پُرہجوم ہوں۔ بصورتِ دیگر بہت کچھ ہو سکتا ہے جن میں سب سے کم درجہ زبانی ہراس اور گاڑیوں کے ہارن کا ہے جو آپ کے لیے بج رہے ہوں۔ آپ یہاں تیز چلنا سیکھتے ہیں کیونکہ آپ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption استنبول کی خوبصورتی کو بحیثیت عورت رات کے وقت سراہنا قدرے مشکل ہے

حتیٰ کہ جس سڑک پر آپ کا گھر ہے وہ بھی اتنی حوصلہ افزا نہیں ہوتی۔ میں یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران استنبول کے تاریخی شہر کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔ تنگ اور تاریک گلیاں شام ہونے کے بعد آپ کو باہر رہنے سے روکتی ہے۔

جب میں نئی نئی یہاں آئی تو میرے گھر کے باہر کچھ نوجوان موجود تھے انھوں نے مجھ پر آوازیں کسنا شروع کر دیں۔ میں نے ان پر توجہ نہیں دے اور انھیں درگزر کرنا ہی محفوظ راستہ تھا۔ مجھ میں پانچ مردوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی اس لیے میں تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔

میں ہمیشہ محتاط رہتی تھی۔ میں اپنے لباس کا بھی خیال رکھتی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا لباس کیا ہے۔

20 سالہ اوزگیجان اسلان یونیورسٹی کی طالبہ تھیں جو بس سے گھر واپس لوٹ رہی تھیں۔ بس ڈرائیور نے اس سے ریپ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے جواباً ڈرائیور پر مرچوں کا سپرے کیا لیکن اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس کے سر پر لوہے کی سلاخ سے بھی وار کیا گیا۔ پولیس کو اس کی جلی ہوئی لاش دریا کے کنارے ملی۔ منی بس کے ڈرائیور سمیت تین افراد کو اس کے قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔

اس قتل کے خلاف ہزاروں عورتوں نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ سر پر سکارف اوڑھے ایک ہائی سکول کی طالبہ نے مجھے بتایا کہ سڑکوں نے اسے ڈرنا سکھایا ہے۔ یہ انتہائی سادہ لیکن چبھنے والا جملہ تھا۔ میں نے اپنے ماضی میں جھانکا تو یہ سچ لگا یہی سڑکیں ہمیں ڈرنا سکھاتی ہیں، پریشان ہونا سکھاتی ہیں، محتاط رہنا سکھاتی ہیں۔ ورنہ اوزگیجان اپنے بیگ میں مرچوں کا سپرے کیوں رکھتی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوزگیجان اسلان کے قتل کے خلاف ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا

یہ لکھتے ہوئے مجھے ایسے کئی واقعات یاد آ رہے ہیں جو میں برسوں پہلے بھول چکی تھی۔ اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ترکی میں بحیثیت عورت ہم روزانہ استحصال کا شکار ہوتے ہیں، یہ ہمارے لیے معمول کی بات ہے۔ ہم میں بقا کی خواہش ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے ہماری مدد کرتی ہے۔ میرے لیے اس کا حل ہے زیادہ تر جینز پہننا، زیادہ میک اپ نہ کرنا اور ایسے چلنا جیسے میں کبھی کسی چیز سے خوفزدہ تھی ہی نہیں۔

سڑکوں پر، سکول میں، کیفے میں، گھر میں جسمانی اور زبانی استحصال ہماری زندگیوں کا معمول ہے۔ اب تک یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس پر بات نہیں کی گئی۔

اس قتل کے واقعے کے چند دن بعد ترکی میں خواتین نے جنسی ہراس کے خلاف آواز اٹھانا شروع کر دی اور ٹوئٹر پر اپنی کہانی بتاؤ ’tellyourstory#‘ کے نام سے ہیش ٹیگ مقبول ہونے لگا جسے دو دن میں 700000 مرتبہ استعمال کیا گیا۔ سینکڑوں انفرادی تجربات شیئر کیے گئے جس پر مجھے احساس ہوا کے میری کہانی تو سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔

اگر آپ میرے ذاتی تجربات کے بارے میں میری ماں کے تاثرات جاننا چاہیں گے تو ابھی مجھے اس کا علم نہیں۔ میں نے انھیں کبھی اس بارے میں نہیں بتایا لیکن اوزگیجان اسلان کے قتل کے بعد میں نے انھیں فون کیا۔ اس مختصر سی فون کال میں ہم نے ترکی کی عورت کو درپیش مسائل پر بات کی۔ ہم دونوں ہی رو رہی تھیں۔

اسی بارے میں