یوکرینی فوج کی اہم دفاعی شہر دیبالستیو سے پسپائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کے روز بڑی تعداد میں یوکرائن کی افواج کو شہر سے پسپا ہوتے ہوے دیکھاگیا

یوکرین کے صدر کے مطابق ان کی فوج مشرقی شہر دیبالستیو سے منظم انخلا کر رہی ہے جبکہ شہر کے بیشتر حصوں پر باغیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو کا کہنا تھا کہ 80 فیصد فوجی بدھ کے روز ہی چلے گئے تھے اور باقی بھی جلد ہی چلے جائیں گے۔

جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود میں علاقے میں لڑائی جاری ہے اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں نے دیبالستیو کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

روس کے وزیرِخارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کے فوجی باغیوں کے گھیرے میں ہیں اور وہ وہاں سے نکلنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

سرگئی لاروف کا مزید کہنا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں سمجھداری کا مظاہرہ کیا جائے گا۔‘

انھوں نے باغیوں پر زور دیا کہ ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔

اس سے پہلے امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر روس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا تو یہ اس کو مہنگا پڑے گا۔‘

دوسری جانب روسی وزیرِخارجہ کا کہنا ہے کہ دیبالستیو میں باغیوں کا حملہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ امن معاہدے کے وقت شہر باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق بدھ کے روز بڑی تعداد میں یوکرین کی افواج کو شہر سے پسپا ہوتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیبالستیو شہر میں اپنے فوجیوں کو باغیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی اجازت دے۔

پوتن نے امید ظاہر کی کہ باغی کسی بھی پکڑے جانے والے فوجی کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپسی کی اجازت دیں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری طور پر علاقے میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں