’امریکی موقف کو اسرائیل غلط رنگ دے رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اوباما اور بن یامین نیتن یاہو کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں

امریکہ نے اسرائیل پر ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات جاری کرنے کا الزام لگایا ہے۔

امریکی حکومت کی طرف سے اسرائیل کے بارے میں اس بیان سے اوباما انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم کے مارچ میں متنازع دورے سے قبل مزید تلخی پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی صدر کے ترجمان نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی موقف کو غلط رنگ دینے کا الزام لگایا۔

اسرائیل کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے واہٹ ہاوس کے ترجمان جان ارنسٹ نے کہا کہ اسرائیل مستقل طور پر من پسند اطلاعات کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کر رہا ہے جس سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کے موقف کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی نے اسی بارے میں ایک خبر میں کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کو اسرائیل سے خفیہ رکھ رہا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل من پسند معلومات جاری کرتا ہے تاہم انھوں نے ’من پسند‘ معلومات کی تفصیل میں جانے سے انکار کر دیا۔

پاسکی نے اس سوال کے جواب میں کہ وہ من پسند معلومات کیا ہیں کہا کہ :’میرے خیال میں یہ کہنا بہتر ہو گا کہ مذاکرات کے بارے میں اسرائیل کی حکومت کی جانب سے جو کچھ آپ سن رہے ہیں اس سے مذاکرات کی تفصیلات کی درست عکاسی ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسرائیلی وزیر اعظم کے آئندہ دورے کے دوران امریکی صدر نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا ہے

ارنسٹ نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں گفت و شنید کی تفصیلات میں جانے سے انکار کیا۔

انھوں نے کہا کہ : ’میرے خیال میں یہ کہنا درست ہے کہ امریکہ کو اس بات کا احساس ہے کہ سرِعام بات نہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی بات چیت کو سیاق و سباق سے الگ کر پیش نہ کیا جائے جو اس کے اور اس کے اتحادیوں موقف کو غلط رنگ دے۔‘

امریکی وزارتِ خارجہ اور ایوان صدر کی طرف سے امریکہ کے ایک درینہ اتحادی کے بارے میں سرعام تنقید ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب امریکہ، روس، چین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور مارچ کے آخر تک ایک بنیادی خاکہ سامنے آنے کی توقع ہے۔

اسی دوران اوباما انتظامیہ اور حزب اختلاف کی جماعت رپبلکن پارٹی کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو کو مارچ میں واشنگٹن کا دورہ کرنے اور کانگریس سے خطاب کی دعوت دینے پر اختلاف چل رہا ہے۔

صدر اوباما اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات سردمہری کا شکار ہیں اور صدر اوباما نے نتین یاہو کے واشنگٹن دورے کے دوران ان سے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

.

اسی بارے میں