’تارکینِ وطن کو سرزمین سے تعلق کا احساس دلانا ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مختلف معاشروں میں آباد ان تارکینِ وطن کو کوئی مثبت متبادل دینا ہوگا:جو بائیڈن

امریکہ میں انتہاپسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کی کوششوں کے لیے تین روزہ عالمی اجلاس شروع ہوا ہے جس میں دنیا بھر سے مندوبین شریک ہیں۔

اس اجلاس کا انعقاد گذشتہ چند ماہ میں آسٹریلیا، فرانس اور ڈنمارک میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد ہو رہا ہے۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ تارکین وطن سے رابطہ کیا جائےجو شاید خود کو اہمیت نہ ملنے کی وجہ سے اس لیے انتہاپسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مختلف معاشروں میں آباد ان تارکینِ وطن کو کوئی مثبت متبادل دینا ہوگا۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں یہ لوگ آباد ہیں انھیں ان افراد کو اس سرزمین سے تعلق کا احساس دلانا ہوگا تاکہ دہشت گرد ان میں خوف، تنہائی، نفرت اور ہتک کا احساس نہ پھیلا سکیں۔

وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ خاص طور پر یورپی ممالک دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ ہیں کیونکہ اکثر ان معاشروں میں تارکینِ وطن کا بہتر طرح سے انضمام نہیں ہوتا۔

نامہ نگاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنی سرزمین پر پروان چڑھنے والے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹے اور امریکیوں کو انتہاپسندی کی جانب جانے، اس سے منسلک ہونے سے روکنے اور خاص طور پر بگڑے ہوئے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

جمعرات کو وزارتِ خارجہ میں لگ بھگ 60 ممالک کے مندوبین سے خطاب سے قبل بدھ کو امریکی صدر براک اوباما وائٹ ہاؤس میں جاری اس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

ان 60 ممالک میں اردن، یورپ، مصر، متحدہ عرب امارات، کویت اور فرانس بھی شامل ہیں۔

یہ اجلاس گذشتہ سال اکتوبر میں کینیڈا، دسمبر میں آسٹریلیا جبکہ رواں سال جنوری میں فرانس اور اس کے بعد اسی ماہ ہی ڈنمارک میں ہونے والے حملوں کے بعد منعقد کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کا انعقاد مشرق وسطی میں دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بین القوامی برادری کے بڑھتے خدشات کے تناظر میں بھی ہورہا ہے۔

اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر مسٹر جوبائیڈن نے مقامی سطح پر انتہاپسندی کے تدارک میں پیش رفت کے حوالے سے لاس اینجلس، بوسٹن اور مینیاپولس جیسے شہروں کا بطور مثال نام لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد مقامی رہنماؤں سے بڑے پیمانے پر رابطہ کرنا تھا تاکہ تمام امریکی خاص طور پر وہاں موجود مسلمان خود کو معاشرے میں ضم سمجھیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ےس امریکہ جو سب سے اہم سبق سیکھ سکتا ہے وہ معاشرے کے ہر فرد کی شمولیت کا ہے اور یہ کہ قومی سلامتی کی معاشرے کی اجتماعیت کے احساس سے بنتی ہے۔

بائیڈن نے تسلیم کیا کہ امریکہ نے اس معاملے کو ہمیشہ درست طور پر نہیں لیا لیکن اسے انضمام کا وسیع تجربہ ہے اور امریکی سسٹم میں مختلف معاشرتی گروہوں کی شمولیت امریکہ کا خواب ہے۔

اسی بارے میں