’روس کی اشتعال انگیزی کا اگلا نشانہ خطۂ بالٹک ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی صدر گذشتہ برس لیننگ گارڈ خطے میں فوجی مشقوں کے دوران دورے کے موقعے پر

برطانیہ کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کی جانب سے بالٹک ریاستوں لٹویا، لیتھونیا اور ایسٹونیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

چونکہ یہ تینوں نیٹو کی رکن ریاستیں ہیں اس لیے تنظیم اس معاملے میں روس کے ساتھ براہِ راست تنازعے میں ہے۔

برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ ہے کہ روس بالٹک ریاستوں لٹویا، لیتھونیا اور ایسٹونیا کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیرِ دفاع مائیکل فیلن نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین سابق سویت ریاستوں میں بھی جو اب نیٹو کی رکن ہیں اسی طرح کے ہربے استعمال کرے گا جیسے انھوں نے یوکرین میں کیے۔

انھوں نے کہا ’میں بالٹک میں ان کے دباؤ کی وجہ سے پریشان ہوں اور جس طرح وہ نیٹو کو آزما رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’نیٹو کو روس کی جانب سے اشتعال انگیزی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کے بحران کا باعث بننے والا کرائمیا کے خطے کے الحاق والا حربہ استعمال کر سکتا ہے۔

لیتھونیا کے وزیرِ خارجہ نے برطانوی ہم منصب مائیکل فیلن کے خدشات کو دہرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقی اور موجودہ خطرہ ہے

’وہ سب کے لیے خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ اگر ہم ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ کسی ایک ریاست یوکرین، مولڈووا یا کسی بھی دوسری ریاست کے لیے خطرہ ہے تو یہ غلط ہوگا۔ ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ یہ پورے خطے کے لیے، یورپ کے لیے خطرہ ہے۔‘

26 یورپی ممالک، امریکہ اور کینیڈا پر مشتمل نیٹو کے لیے بنائے گئے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی ایک یا چند ریاستوں پر حملے کو تمام رکن ریاستوں پر حملہ قرار دیا جائے گا۔ اس لیے کسی بھی بالٹک ریاست کے خلاف روسی اشتعال انگیزی اسے نیٹو ارکان کے ساتھ بڑے پیمانے پر آمنے سامنے لا سکتی ہے۔

مائیکل فیلن کا یہ بیان برطانوی وزیرِاعظم کی جانب سے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے یورپی ممالک سے کہا تھا کہ وہ روس کو باور کروائیں کہ اگر اس نے یوکرین کو غیر مستحکم کرنا بند نہ کیا تو اسے آنے والے کئی برسوں تک اقتصادی اور معاشی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

اس ماہ کے اوائل میں یہ بات سامنے آیی تھی کہ نیٹو ایک سریع الحرکت فورس تیار کر رہا ہے جو مشرقی یورپ میں اس کے رکن ممالک کو روس سے درپیش خطرات سے نمٹے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیٹو کے جنگی جہاز گذشتہ برس لیتھونیا میں جنگی مشقوں کے موقعے پر

اسی بارے میں