’سلامتی کونسل ہتھیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیبیا پر 2011 میں ہتھیاروں کی عالمی پابندیاں عائد ہوئی تھیں۔

لیبیا نے اسلحہ خریدنے پر عائد پابندی ہٹانے کے لیےاقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے۔

لیبیا کا موقف ہے کہ اسلحے کی خریداری سے وہ دولت اسلامیہ سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کر سکےگا۔

لیبیا کے وزیرخارجہ محمد الدیری نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کی پابندی ہٹنے سے حکومت اپنی فوج کی تربیت کر سکےگی اور بے قابو ہوتی شدت پسندی سے نمٹ سکے گی۔

مصر نے لیبیا کی جانب سے بدھ کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پیش کی جانے والی اس درخواست کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سنہ 2011 سے متحارب عسکریت پسند گروہ لیبیا کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنگ میں مصروف ہیں۔امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ خدشہ ہے کہ یہ گروہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ شامل نہ ہو جائیں۔

لیبیا کہ وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو دوٹوک فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا کے لیے ہتھیاروں کے حصول میں ناکامی شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے کے مترادف ہوگی۔

یاد رہے کہ لیبیا پر 2011 میں عالمی پابندیاں لگی تھیں جب اس وقت کے سربراہ کرنل قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی۔

مصر کے وزیرِ خارجہ سمیع شکرے کے مطابق ’لیبیا غیر معمولی خطرے سے دوچار ہے جس کی وجہ سے وہ اس پر عائد ہتھیاروں کی پابندیاں ہٹانے کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP Alitweel
Image caption ہھتیاروں تک رسائی کے لیے مصر لیبیا کا حامی ہے

اس موقع پر مصر کے وزیِر خارجہ نےان بحری راستوں سے لیبیا میں اسلحے کی رسد روکنے کی درخواست بھی جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔

نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک برینٹ کے مطابق بظاہر یہ لگتا ہے کہ لیبیا اور مصر اپنی پہلی درخواست سے پیچھے ہٹ رہے ہیں جس میں انھوں نے اقوام ِ متحدہ کی اجازت سے لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف بین الاقوامی فوجی مداخلت کرنے کا کہا تھا۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ مغربی سفیروں کو لیبیا سے ہتھیاروں کی پابندی اٹھانے پر شدید تحفظات ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار ملیشیا گروہوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مغربی سفیروں کو خدشہ ہے کہ اسلحے سے پابندی ہٹی تو ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھوں تک پہنچ سکتے ہیں

منگل کو مصری فوج نے لیبیا میں دولتِ اسلامیہ پر حملہ کیا تھا۔یہ حملہ اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد کیا گیا تھا جس میں دولتِ اسلامیہ نے 21 مصری عیسائیوں کا سر قلم کیا تھا۔ ان مغویوں کو لیبیا میں دسمبر اور جنوری میں اِغوا کیا گیا تھا۔

ادھر اٹلی کی حکومت بھی لیبیا کی فوج کی تربیت کرنے کی پیشکش کر چکی ہے۔ رواں ہفتے دولتِ اسلامیہ نے اٹلی کے تین باشدوں کو بھی یرغمال بنانے کے بعد ان کی ویڈیو جاری کی تھی۔

لیبیا میں اس وقت دو حکومتیں ہیں ایک طرابلس میں جبکہ دوسری تبروک میں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زینتان کے علاقے میں بدھ کو ایئرپورٹ پر فوج کے جیٹ طیاروں نے بمباری کی جس کے بارے میں ایک افسر نے بتایا کہ اس کا حکم طرابلس میں موجود حکام نے دیا تھا۔

اسی بارے میں