کئی کالعدم تنظیمیں نام بدل کر پاکستان میں فعال ہیں: نثار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’شدت پسند ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو نشانہ بناتے ہیں جیسے کہ سکول، عبادت گاہیں اور مارکیٹیں‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے نے قوم کو متحد کیا ہے اور اس حملے کے بعد صرف ایک ایجنڈا ہے کہ شدت پسندوں کو ختم کرنا ہے۔

امریکہ میں انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا امریکہ نے ایک نائن الیون کا سامنا کیا جبکہ گذشتہ 13 سالوں میں پاکستان نے کئی نائن الیون کا سامنا کیا ہے۔

انھوں نے کہا شدت پسند ’سافٹ ٹارگٹ‘ کو نشانہ بناتے ہیں جیسا کہ سکول، عبادت گاہیں اور مارکیٹیں۔

’ہمارے لیے بہت مشکل ہے کہ ہم سکول نہیں بند نہیں کر سکتے، لوگوں کو عبادت گاہوں میں جانے سے نہیں روک سکتے اور لوگوں کو مارکیٹوں میں جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے میں وقت لگے گا۔ ’پاکستان میں فرقہ واریت گذشتہ 30 سالوں سے ہے اور اس کے خاتمے میں وقت لگے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دولت اسلامیہ مشرق وسطیٰ میں ہے۔

’میں واضح کر سکتا ہوں کہ دولت اسلامیہ نہ تو پاکستان اور نہ ہی افغانستان میں موجود ہے۔ پاکستان میں دولت اسلامیہ کے وجود کے بارے میں ذرائع ابلاغ اس کی بہت زیادہ تشہیر کر رہے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام پہلے کیا جاتا ہے اور حکمت عملی بعد میں بنائی جاتی ہے۔ ’پچھلے 13 سال میں شدت پسندی کے خلاف جنگ میں کوئی حکمت علی نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے میں مشکلات تھیں۔ ’پالیسی بنانے میں فوج کے ساتھ کام کرنا آسان تھا جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرنا مشکل تھا۔‘

چوہدری نثار نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد انٹیلیجنس اداروں میں تعاون بہت بڑھ چکا ہے جب کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی پہلے سے زیادہ تعاون ہو رہا ہے۔

کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’مجھے یہ بات کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کے باعث کئی کالعدم تنظیمیں نام بدل کر پاکستان میں فعال ہیں۔ ‘

تاہم انھوں نے مزید کہا ’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف ایک ہی پالیسی کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘

چوہدری نثار ڈنمارک، فرانس اور آسٹریلیا میں دہشت گردی کے بعد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے امریکہ میں ہیں۔

انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے موضوع پر ہونے والی یہ اس تین روزہ کانفرنس کا افتتاح امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کیا۔

اسی بارے میں