روس کے بارے میں ’تباہ کُن غلط اندازے‘ لگائے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روس نواز باغیوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہیں

برطانوی پارلیمان کے ہاؤس آف لارڈز کی یورپی یونین کمیٹی نے برطانیہ اور یورپی یونین پر یوکرین کے تنازعے کے آغاز سے روس کے بارے ’تباہ کُن غلط اندازے‘ لگانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایوان بالانے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ اس تنازعے میں بغیر تیاری کے ’سوتے ہوئے‘ داخل ہوا اور اسے اندازہ نہیں ہوا کہ روس کی جانب سے یوکرین سے تعلقات کے حوالے سے کس قدر جارحیت ہو گی۔

یہ بات ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ سٹک نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو فون کر کے مشرقی یوکرین میں جاری تشدد کے ردِ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

اس رپورٹ میں برطانوی وزیردفاع مائیکل فالن کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ روس تینوں بالٹک ریاستوں کے لیے ایک ’حقیقی اور مودجو خطرہ‘ ہیں۔

انہوں نے یہ بات شاہی برطانوی فضائیہ کے بمبار طیاروں کے روسی طیاروں کو ملک کی فضائی حدود میں مشرقی کورنویل کے قریب سے نکالنے کے لیے بلائے جانے کے موقع پر دیا تھا۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ برطانیہ یورکین کے تنازعے میں بہت زیادہ ’متحرک اور نمایاں‘ نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’روس تینوں بالٹک ریاستوں کے لیے ایک حقیقی اور مودجو خطرہ ہیں‘

اس کمیٹی نے وزارتِ خارجہ میں کٹوتیوں کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جس کے نتیجے میں اب کم روسی ماہرین وزارت میں کام کر رہے ہیں اور تجزیوں پر بھی کم توجہ دی جاتی ہے۔

اسی طرح کا انحطاط دوسری یورپی وزارتوں میں دیکھا گیا جس نے انہیں اس تنازعے سے نمٹنے کے لیے موثر طور پر تیار نہیں چھوڑا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بہت لمبے عرصے تک یورپ کے ماسکو سے تعلقات کی بنیاد ’اس پرامید وعدے‘ پر تھے کہ روس ایک جمہوری ملک بننے جا رہا تھا۔

جس کے نتیجے میں 2013 میں جب روس نے یوکرین کے ساتھ ’ایسوسی ایشن معاہدے‘ کے بارے میں بات چیت کی تو یورپی یونین کو روس کی جارحیت کی گہرائی کا اندازہ لگانے میں وقت لگا۔

یوکرین کا تنازع نومبر 2013 میں شروع ہوا جب روس نواز صدر وکٹر یانوکووِچ کی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو روس کے ساتھ مضبوط تعلقات کے حق میں ترک کر دیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے جنہوں نے یانوکووِچ کے اقتدار کا بلآخر خاتمہ کیا۔

یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں بعد میں سامنے آنے والی بے چینی کے نتیجے میں یہ روس سے علیحدہ ہو گیا جس کے بارے میں مغربی طاقتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ اس نے روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرین کی افواج کے درمیان کشیدگی کو بڑھاوا دیا۔

کمیٹی کے سربراہ لارڈ ٹگنڈ ہیٹ نے کہا کہ ’برطانیہ اور یورپی یونین میں یوکرین کے تنازعے کے آغاز میں ایک موثر اور متحرک تجزیاتی قوت کی غیر موجودگی نے موثر طور پر ایک تباہ کن غلطی کی جانب دھکیلا۔‘

برطانیہ کی خصوصی ذمہ داری تھی یوکرین کے حوالے سے کیونکہ وہ 1994 کے بڈاپِسٹ معاہدے پر دستحظ کرنے والے چار ممالک میں سے ایک تھا جس نے یوکرین کے علاقائی تحفظ کی پاسداری کی یقین دہانی کروائی تھی۔

نہ ہی برطانیہ اور نہ ہی یورپی یونین کے پاس سٹریٹجک ردِعمل ہے تا کہ وہ روس کے ساتھ مستقبل میں کیسے نمٹیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی روس کی جانب سے یوکرین میں ’غیر قانونی اور غیر منطقی‘ مداخلت کے دائرۂ کار کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔

’اس کا سارا الزام روس نواز باغیوں پر ہے جن کی حمایت روسی حکام کر رہے ہیں نہ کہ یورپی یونین اور یوکرین کے درمیان ایسوسی ایشن معاہدے پر جس پر گذشتہ سات سال سے بات چیت چل رہی تھی جس دوران ہی روس نے اپنے ہمسائے پر پہلے حملہ کیا اور پھر اس کے ایک حصے کو جدا کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دبالستیوا کے علاقے میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بھی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

ترجمان نے مزید کہا کہ’اگر یوکرینی عوام یورپی یونین کے ساتھ بہتر معاشرتی، معاشی اور سیاسی تعلقات چاہتے ہیں تو یہ اُن کا حق ہے نہ کہ روس کا۔‘

سر اینڈریو ووڈ جو برطانیہ کے روس میں سفیر رہ چکے ہیں نے اس کمیٹی کی رپورٹ سے اتفاق کیا اور کہا کہ یہ یورپ بھر کا بلکہ امریکہ کا بھی مسئلہ ہے ’غلط اندازے‘ لگانا۔

انہوں نے اس صورتحال کو’خطرناک لمحہ‘ قرار دیا کیونکہ روس ایک ’جمودی حالتِ انارکی‘ میں ہے ’اور انہوں نے یوکرین میں ایک مہم جوئی کا آغاز کیا ہے اور اب انہیں پتا نہیں چل رہا کہ وہ اسے کیسے ختم کریں۔ تو اس حوالے سے بعض خطرات ہیں کہ اُن کی وہاں ناکامی یا مایوسی اس علاقے سے نکل کر تنازعے کو دوسرے علاقے میں پھیلا دے اور بحیرۂ بالٹک کی ریاستیں روس کی جانب سے پریشر میں رہی ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم اور یورپی کونسل کے سربراہ کے درمیان بات چیت میں روس نواز باغیوں اور یوکرینی افواج کے درمیان دبالستیوا کے علاقے میں شدید لڑائی پر تشویش کا اظہار کیا جو اتوار کو جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے ہو رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یورپی یونین اس حوالے سے اپنے ردِ عمل پر نظر ثانی کرے اور روس پر واضح کیا جائے کہ وہ روس نواز باغیوں کو جنگ بندی کا پابند کرے۔

اسی بارے میں