ایبولا میں کمی، لائبیریا کا سرحد کھولنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ سال جب سے یہ ایبولا کی یہ وبا پھیلی ہے اس میں 9300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ایبولا کے کیسز میں کمی کے بعد افریقی ملک لائبیریا نے اتوار سے اپنی سرحدیں پھر سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے جمعے کو اس بات کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ ملک گیر کرفیو بھی ہٹا لیا جائے گا۔

اس مہلک وائرس کی زد میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں دس گنا کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم صحت کے شعبے کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ یہ گراوٹ گذشتہ ماہ کی ہے۔

ڈاکٹر بروس ایلوارڈ جو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایبولا کے نگراں ہیں انھوں نے کہا کہ ’اعدادوشمار بتاتے ہیں انفیکشن میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ 120 سے 150 کیسز فی ہفتہ تک آ گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’اب بھی یہ مجھے راتوں کو جگا دیتا ہے۔ آپ ایبولا کے معاملے یہ دیکھنا نہیں چاہتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے جمعے کو سرحدیں کھولنے کی باتیں کہیں

گذشتہ سال جب سے یہ وبا پھیلی ہے اس میں 9300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بہر حال لائبیریا، گنی اور سیئرا لیون نے آئندہ دو مہینوں میں اس کی تعداد صفر تک لانے کا عہد کیا ہے۔

ان تینوں ممالک میں لائبیریا سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا لیکن اب وہاں بہتری کی صورت نظر آ رہی ہے کیونکہ 12 فروری والے ہفتے میں صرف دو مصدقہ معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ سیئرالیون میں 74 اور گنی میں 52 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں صدر سرلیف نے کہا کہ جب اتوار کو سرحدیں کھول دی جائیں گی تو ’صحت کے پروٹوکول‘ اس وائرس کو بیرون بھیجنے سے منع کرتا ہے۔

Image caption لائبیریا میں سکول کھول دیے گئے ہیں

قومی ایمرجنسی کے تحت اس وبا کے پھیلاؤ کے بعد گذشتہ سال سرحدیں بند کر دی گئیں تھیں اور رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

ملک کو معمول پر لانے کے لیے حالیہ ہفتوں میں سکولوں کو پھر سے کھول دیا گيا ہے۔

سٹاف کو طلبہ کے بخار کی جانچ کے لیے تھرمامیٹر اور ہاتھ دھونے کے لیے کلورین والے پانی کی بالٹیاں دی گئي ہیں۔

اسی بارے میں