یوکرین کا بحران: ماسکو میں’بغاوت‘ کی برسی پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس ہزار افراد اس ریلی میں شرکت کریں گے

روس کے دارالحکومت ماسکو میں یوکرین میں صدر کو ہٹائے جانے کا ایک سال مکمل ہونے پر ریلی نکالی جا رہی ہے۔

روس کی سرکاری میڈیا اس مارچ کی بھرپور کوریج کر رہا ہے۔ اس مارچ کا نعرہ ہے ’ہم نہیں بھولیں گے! ہم معاف نہیں کریں گے!‘

واضح رہے کہ 2014 میں یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کو ہٹایا گیا تھا۔ ان کو ہٹائے جانے کے بعد روس نے یوکرین کے علاقے کریمیا پر قبضہ کر لیا ہے اور اس پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔

ماسکو میں جاری ریلی میں مظاہرین نے بینرز اٹھائے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا ایک گروپ فوجی یونیفارم میں میں ملبوس ہے اور انھوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر تحریر ہے ’میدان ایک بیماری ہے، ہم اس کا علاج کریں گے!‘

ایک اور پلے کارڈ پر درج ہے ’میدان سے روس کے دشمنوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس ہزار افراد اس ریلی میں شرکت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ہفتے کی صبح باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے یوکرین کے مشرقی شہر دونیسک شیلنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل ہی یوکرین کے بحران کے خاتمے کے لیے یوکرین، روس، جرمنی اور فرانس میں میں معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق 15 فروری سے ہوا۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں طویل مذاکرات کے بعد چاروں ممالک کی جانب سے طے پانے والے معاہدے کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

امن کے اس لائحۂ عمل میں غیر مسلح ہونا اور قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔

مشرقی یوکرین میں موجود روس نواز باغیوں نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ خطے میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

معاہدے کے اہم نکات:

  • جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق اتوار کو شروع ہو گی
  • علاقے سے بھاری ہتھیاروں کے انخلا کا آغاز 17 فروری سے ہو گا اور یہ دو ہفتوں میں مکمل ہو گا
  • تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور جنگ میں ملوث لوگوں کو معافی دی جائے گی
  • غیر ملکی تنصیبات، ہتھیار اور سپاہی یوکرین کی حدود سے نکل جائیں گے، اور تمام غیر قانونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا
  • یوکرین پابندیوں کو ہٹا کر باغیوں کے علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی اجازت دے
  • باغیوں کے علاقوں کو مرکز میں لانے کے لیے 2015 کے اختتام تک آئینی اصلاحات کی جائیں
  • اگر 2015 کے اختتام تک تمام شرائط پوری ہو جائیں تو یوکرین روس کے ساتھ سرحدوں کو کنٹرول کرے

اسی بارے میں