یوکرین: قیدیوں کے تبادلے کے بعد ہتھیاروں کی واپسی بھی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رہا کیے جانے والے کئی فوجی زخمی تھے اور بیساکھیوں کے سہارے چل رہے تھے۔

مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے لیے مصروف روسی فوج کے ایک جنرل کا کہنا ہے کہ باغی دو ہفتوں میں محاذِ جنگ سے بھاری ہتھیاروں کی واپسی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

جنرل الیگزینڈر لینتسوو کا کہنا ہے کہ روس نواز باغی نے ان ہتھیاروں کی واپسی کے احکامات پر دستخط کر دیے ہیں اور یہ عمل اتوار سے ہی شروع ہو جائے گا۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ یوکرین کی افواج بھی جواباً ہتھیار ہٹائیں گی یا نہیں۔

بھاری ہتھیاروں کی محاذ سے پیچھے منتقلی کے نظام الاوقات کا اعلان حکومت اور باغیوں کے درمیان 191 قیدیوں کے تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے کے ایک ہفتے بعد باغیوں نے سنیچر کو 139 یوکرینی فوجیوں کو رہا کیا جس کے بدلے حکومت نے 52 باغیوں کو آزاد کیا ہے۔

قیدیوں کا یہ تبادلہ 12 فروری کو منسک میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت پہلا قدم تھا جو فرانس اور جرمنی کے تعاون سے طے پایا تھا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پورو شینکو نے ٹوئٹر پر کہا ہے ہے کہ قیدیوں کا تبادلہ محاذِ جنگ پر زولوبوک نامی قصبے میں ہوا۔

رہا کیے جانے والے کئی فوجی زخمی تھے اور بیساکھیوں کے سہارے چل رہے تھے۔

معاہدے کے مطابق فریقین نے ایک دوسرے کے تمام قیدی رہا کرنے ہیں تاہم دونوں نے کچھ قیدیوں کو رہا نہیں کیا۔ ابھی واضح نہیں ہے کہ دونوں جانب کتنے لوگ قید میں ہیں۔

صدر پورو شینکو کا کہنا تھا کہ کل 140 فوجی قیدی رہا کیے جانے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق ایک قیدی کو آنے والے دنوں میں رہا کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باغیوں نے 139 یوکرینی فوجیوں کو رہا کیا جس کے بدلے حکومت نے 52 باغیوں کو آزاد کیا

یہ تبادلہ امریکہ کی جانب سے اس تنبیہ کے بعد ہوا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ معاہدے کے ناکامی کی صورت میں وہ روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

لندن کے دورے پر گئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ صدر اوباما آئندہ دنوں میں ان پابندیوں سے متعلق فیصلہ سنانے والے ہیں۔

انھوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ یوکرین میں باغیوں کی حمایت کر کے بزدلانہ رویہ دکھا رہا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا ’اگر جنگ میں ناکامی جاری رہی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے جن میں روس کے خلاف پابندیاں شامل ہیں جس کی معیشت پہلے ہی مسائل سے دو چار ہے۔‘

تاہم کریملین کے ترجمان دیمیتری پیکوف کا کہنا تھا کہ پابندیاں یوکرین کا بحران حل کرنے میں مددگار نہیں ہوں گی۔

بھاری ہتھیاروں کی واپسی کا فیصلہ

دوسری جانب یوکرین میں جنگ بندی پر عمل درآمد کروانے میں شامل ایک روسی جنرل نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین کے باغی جنگ زدہ علاقوں سے بھارتی ہتھیار ہٹانے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔

جنرل الیگزینڈر لینتسوو کا کہنا ہے کہ لوہانسک اور دونیتسک میں روس کے حامی علیحدگی پسند رہنماؤں نے اتوار کو ہتھیاروں کی واپسی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشرقی یوکرین کے باغی جنگ زدہ علاقوں سے بھارتی ہتھیار ہٹانے پر بھی رضامند ہو گئے ہیں۔

ہتھیاروں کی واپسی منسک معاہدے کے مرکزی نکات میں شامل تھا۔

جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد گذشتہ منگل کو شروع ہونا تھا تاہم حکومتی فورسز اور باغیوں میں لڑائی جاری رہی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق گذشتہ برس اپریل سے شروع ہونے والے تنازع میں اب تک 5700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھارت ہتھیار اور فوجی فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔

آزاد ماہرین بھی اس بات کو دہراتے نظر آتے ہیں جبکہ ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی روسی باغیوں کی مدد کر رہا ہے تو یہ اس کا رضا کارانہ فعل ہے۔

اسی بارے میں