یمن کے سابق صدر نظربندی کے بعد دارالحکومت سے نکل گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر کے قریبی ساتھی کے مطابق انھیں روس اور امریکہ کے دباؤ پر چھوڑا گیا ہے

یمن کے سابق صدر عبدالربوح منصور ہادی دارالحکومت صنعا میں کئی ہفتوں تک نظر بند رہنے کے بعد عدن پہنچ گئے ہیں۔

صنعا میں حوثی باغیوں نے انھیں گھر پر نظربند کر رکھا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ وہ مستعفی ہوں۔

سابق صدر کی صنعا سے روانگی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک دن پہلے ہی یمن میں فریقین ملک میں حکومت کرنے کے لیے ایک عبوری کونسل بنانے پر متفق ہو گئے ہیں۔

یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت پر قبضے کے بعد سے بحران جاری ہے۔

قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں باغیوں سے اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کے نمائندے جمال بن عمر نے فریقین کے درمیان ابتدائی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک اہم قدم قرار دیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سابق صدر منصور ہادی کو دارالحکومت چھوڑنے کی اجازت کیوں دی گئی۔

سابق صدر کے ایک قریبی ساتھی نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انھیں اقوام متحدہ، روس، امریکہ اور مقامی جماعتوں کی جانب سے دباؤ کے بعد رہا کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سابق صدر اس وقت عدن کے ایک ضلعے میں واقع اپنے مکان پر ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سابق صدر کے صنعا سے نکلنے کے بعد ان کی رہائش گاہ میں لوٹ مار کی گئی۔

عدن میں منصور ہادی کے حامیوں نے ملک میں باغیوں کی بغاوت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے ہی صوبہ عدن، لاہج اور محارا کے گورنروں نے سابق صدر کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حوثی باغیوں نے دارالحکومت پر گذشتہ سال ستمبر پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر کے صدر ہادی کو ان کے گھر پر نظربند کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہ صدر کے عہدے سے یہ کہتے ہوئے الگ ہو گئے تھے کہ دباؤ میں اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے ہیں۔

اس کے بعد چھ فروری کو باغیوں نے پارلیمان کو تحلیل کر کے ملک میں حکمرانی کےلیے پانچ رکنی صدارتی کونسل تشکیل دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمن کے دارالحکومت پر اس وقت حوثی باغیوں کا قبضہ ہے

حوثی باغی اپنے شمالی گڑھ سے جنوب کی طرف مزید علاقہ زیرِ قبضہ لا رہے ہیں جو انہیں یمن میں القاعدہ اور دوسرے سنی گروہوں کے مدِ مقابل لا رہی ہے۔

خلیج تعاون کونسل میں بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جن کی خواہش تھی کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے باب نمبر سات کے تحت منظور کی جائے جس کے نتیجے میں طاقت اور پابندیوں کے ذریعے عملدرآمد کروایا سکتا ہے۔

حوثیوں پر شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اُنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے جس سے دونوں انکار کرتے ہیں۔

اسی بارے میں