برطانوی بےگھروں کے لیے سکھوں کا لنگر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکھوں کا کہنا ہے کہ یہ کام سب کو کرنا ہوتا ہے

برطانیہ کے بے گھر لوگوں کو سکھ برادری کی جانب سے ان کے صدیوں سے چلے آ رہے رواج کے تحت مفت کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

ایک بے گھر 55 سالہ برطانوی جان ڈیوڈسن نے کہا: ’ہم یہاں اس لیے آتے ہیں کہ ہمیں یہاں مفت کھانا ملتا ہے، گرم گرم کھانا۔ ہمارے لیے یہ کسی عیش سے کم نہیں۔‘

وہ ان ڈھائی سو افراد میں سے ایک ہیں جنھیں سکھ ویلفيئر اینڈ اویئرنس ٹیم (سواٹ) کی جانب سے گرم گرم سوپ، مشروب، چاکلیٹ اور دوسری چیزیں دی جاتی ہیں۔

ان کی کھانا تقسیم کرنے والی وین اتوار کی ایک سرد شام میں وسطی لندن میں سٹرینڈ کے مقام پر کھڑی تھی۔

یہ ٹیم ہر اتوار کو اپنی وین وہیں کھڑا کرتی ہے تاکہ سکھ برادری کے رضاکار کھانا تقسیم کر سکیں۔

بے گھر لوگ جن میں سے بیشتر سکھ نہیں ہیں وہ صبر کے ساتھ قطار میں کھانے کا انتظار کرتے ہیں۔

جو کھانا کھلاتے ہیں ان کے لیے یہ خیراتی کام سے قدرے زیادہ ہے۔ ان کے لیے یہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ان کے مذہب کے بانی گرونانک نے 500 سال قبل اس کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گرودوارے کے ایک سینیئر اہلکار سورندر سنگھ پوریوال نے بتایا کہ تمام سکھوں کو یہ کام (خدمت) کرنا پڑتا ہے

ایک ایسے زمانے میں جب سماج ذات پات اور ہندو اور مسلمان کے تفرقے میں پڑا تھا گرو نانک نے مساوات کی تعلیم دی اور لنگڑ کی بنیاد ڈالی۔ اس میں خیرات میں دیے جانے والی اشیا سے سبزی والا شوربہ تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

آج پورے برطانیہ میں تمام سکھ کے گرودواروں میں ہزاروں افراد کو مفت لنگر فراہم کیا جاتا ہے۔ ساؤتھ ہال کے گروسنگھ سبھا گرودوارے کو بھارت سے باہر سب سے بڑا گرودوارہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس گرودوارے کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں یہاں روزانہ پانچ ہزار افراد کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے جبکہ سنیچر اتوار کو دس ہزار لوگوں کو کھلایا جاتا ہے۔

گرودوارے کے ایک سینیئر اہلکار سورندر سنگھ پوریوال نے بتایا کہ ’تمام سکھوں کو یہ کام (خدمت) کرنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس نہ تعاون اور نہ رضاکار کی کبھی کمی رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسے مذہبی عقیدے کے طور پر کیا جاتا ہے اور روزانہ کھانا تقسیم کیا جاتا ہے

حال میں لنگر کو کسی ملک کی معیشت کا اشاریے کے طور پر دیکھا گیا۔ سنہ 2008 کی معاشی سست روی کے بعد لنگر میں کھانے کے لیے غیر سکھ برادری کی تعداد میں اضافہ دیکھا گيا۔

پوریوال کا کہنا ہے کہ ’اب گرودوارے میں غیر سکھ عام ہیں اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ جب تک کہ لوگ احترام کررہے ہیں، نشے میں نہ ہوں اور ہمارے طریقے کے مطابق سر ڈھنکیں ان کا استقبال ہے۔‘

لنگر ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس طریقے کو گرودوارے سے باہر لے جانے کا فیصلہ کیا اور جب وہ سڑکوں پر آئے تو انھوں نے لندن میں بے گھروں کے مسائل دیکھے۔

رندیپ سنگھ جنھوں نے یہ ادارہ قائم کیا کہتے ہیں: ’جب آپ مندر جاتے ہیں تو آپ کو کیا پیغام دیا جاتا ہے۔ یہی نا کہ دوسروں کی مدد کریں، پڑوسیوں کی مدد کریں اور ہم یہی تو کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں