ترک فوج تاریخی مزار کی حفاطت کے لیےشام میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی کا موقف ہے کہ سلیمان شاہ کے مزار کو خود مختار علاقے میں ہونا چاہیے

ترکی کے ہزاروں فوجیوں نے بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے شام میں داخل ہو کر دورِ عثمانیہ کے تاریخی مزار کو خالی کروا لیا ہے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ سلیمان شاہ کی باقیات کو شام سے کسی اور جگہ منتقل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ترکی کی افواج نے مزار کے کمپلیکس کو بظاہر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے استعمال کو روکنے کے لیے تباہ کر دیا ہے۔

ترکی کا موقف ہے کہ سلیمان شاہ کے مزار کو خود مختار علاقے میں ہونا چاہیے۔

خیال رہے کہ سلیمان شاہ سنہ 1178 سے سنہ 1236 کے درمیان یہاں قیام پذیر رہے اور وہ دورِ عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے دادا تھے۔

ترکی کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اپنی مسلح افواج کو ہماری روحانی اقدار اور ہماری مسلح افواج کے اہل کاروں کی حفاظت کی ہدایت کی تھی۔‘

اس سے پہلے ترک وزیرِ اعظم نے ترکی زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے مسلح افواج کے شمالی شام میں کیے جانے والے کامیاب ترین آپریشن کی تعریف کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی کے 600 سپاہیوں پر مشتمل قافلہ تقریباً 100 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شام کے سرحدی شہر کوبانی سےگذر کر سلیمان شاہ کے مزار پر پہنچا

احمد داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ سلیمان شاہ کی باقیات کو ترکی منتقل کر دیا تھا تاہم اب اسے جلد ہی ترکی کی سرحد کے قریب ترکی کے زیرِ کنٹرول شامی علاقے میں دفنایا جائے گا۔

ترکی کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس جگہ پر پہلے ہی ترکی کا پرچم لگایا جا چکا ہے۔

احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ آپریشن کے دوران شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے جھڑپیں نہیں ہوئیں تاہم آپریشن میں ایک ترک فوجی ’غلطی‘ سے ہلاک ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ آپریشن سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے شروع ہوا اور اتوار کی صبح ختم ہوگیا۔

ترکی کے 600 سپاہیوں پر مشتمل قافلہ تقریباً 100 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شام کے سرحدی شہر کوبانی جسے شامی کرد فوجیوں نے گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروایا تھا سےگذرا اور دریائے فرات سے 35 کلو میٹر دور جنوب سے ہوتا ہوا سلیمان شاہ کے مزار پر پہنچا۔

خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاہ سلیمان دریائے فرات میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے۔

ترکی کے اس قافلے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کرد فوجیوں اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان جاری حالیہ شدید لڑائی کی وجہ سےغیر معمولی طور پر بہت زیادہ مسلح تھا۔

اسی بارے میں