فرانس نے چھ مبینہ جہادیوں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس میں گذشہ ماہ چارلی ایبڈو میگزین اور یہودی مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد الرٹ ہے

فرانس میں حکام نے پہلی بار مبینہ طور پر جہادیوں میں شامل ہونے کے لیے شام کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے چھ شہریوں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے ہیں۔

فرانسیسی وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس سروسز کو یقین ہے کہ یہ چھ شہری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ فرانس میں یہ اقدام گذشتہ برس نومبر میں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔

فرانسیسی وزیرِ داخلہ کے مطابق حکام نے ان چھ شہریوں کے خلاف اس وقت کارروائی کی جب ان کی شام روانگی بہت قریب تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان چھ شہریوں کے شناختی کارڈز کو چھ ماہ کے لیے ضبط کیا گیا ہے جس کے بعد اس حکم کی تجدید کی جا سکتی ہے۔

فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ان چھ شہریوں کے پاس عدالت میں اس اقدام کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔

فرانس میں گذشہ ماہ چارلی ایبڈو میگزین اور یہودی مارکیٹ میں ہونے والے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد الرٹ ہے۔

دوسری جانب فرانس نے بحرین میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز کو تعینات کیا ہے جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانسیسی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ان چھ شہریوں کے پاس عدالت میں اس اقدام کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے

فرانس کے وزیرِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ چارلس ڈی گال نامی طیارہ بردار جہاز سے جنگی طیارے عراق میں موجود دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔

فرانس کے رفال نامی جنگی طیارے نے پیر کی صبح بحرین کے شمالی ساحل سے 200 کلو میٹر دور پہلی پرواز کی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بحرین میں اس طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی سے جنگی جہازوں کو متحدہ عرب امارات سے عراق پہنچنے میں آدھا وقت لگے گا۔

خیال رہے کہ فرانس نے امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کی حمایت میں گذشتہ برس ستمبر میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے فرانسیسی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 400 فرانسیسی شہری شام میں موجود ہیں جن میں سے 180 واپس آ چکے ہیں، 200 مزید شام جانا چاہتے ہیں اور 200 یورپ میں کہیں موجود ہیں اور وہ شام جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی حکام کا خیال ہے کہ 600 شہریوں نے شام میں جاری لڑائی میں حصہ لیا اور ان میں سے 300 شہری واپس آ چکے ہیں۔

برطانوی پولیس اب ملک چھوڑ کر جانے کی کوشش کرنے والے شہریوں کے پاسپورٹ 30 دن تک ضبط کر سکتی ہے جبکہ دولتِ اسلامیہ میں ملوث ہونے کے شک میں مشتبہ افراد کو برطانیہ واپس آنے والے سے عارضی طور پر روک بھی سکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے تین برطانوی لڑکیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے لندن سے ترکی کے راستے شام کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

ترکی کے صدر کے ترجمان ابراہیم کالن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تین برطانوی لڑکیوں کو تلاش کرنے کے لیے برطانوی حکام کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ 80 ممالک کے ہزاروں غیر ملکیوں نے حالیہ دنوں میں ترکی کے راستے شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور دیگر سخت گیر گروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اسی بارے میں