کچھ معاملات میں پیش رفت، مذاکرات اگلے ہفتے: ایران

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بند کر دے اور ایسا کرنے کی صورت میں اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں’ کچھ معاملات میں پیش رفت‘ کے بعد عالمی طاقتوں سے بات چیت کا اگلا دور اگلے ہفتے شروع ہو گا۔

ایران اور چھ مغربی ممالک کے مابین جوہری پروگرام پر اگلے ہفتے جنیوا میں مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو رہے ہیں۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آخری دور نومبر میں آسٹریا کے شہر ویانا میں ہوا تھا اور یہ بات چیت کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے میں ابھی کافی طویل سفر ہونا باقی ہے لیکن بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا بیان امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے بیان کے فوراً بعد جاری کیا گیا ہے۔

جنیوا میں شروع ہونے والے تین روزہ مذاکراتی دور کا مقصد یکم مارچ تک جوہری معاہدے کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے سیاسی سمجھوتے پر اتفاق اور یکم جولائی تک مکمل تکنیکی تفصیل کے ساتھ جوہری معاہدے کی تصدیق کروانا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نےگذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اب یہ مذاکرات ’اس مرحلے میں ہیں جہاں زیادہ تر معاملات واضح ہو چکے ہیں اور انھیں سمجھا جا رہا ہے۔‘

ایران کے جوہری پروگرام پر ایران اور چھ عالمی طاقتیں نومبر 2013 میں ایک عبوری معاہدے پر متفق ہوئی تھیں تاہم دو مرتبہ ڈیڈ لائنز یا مہلت گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں جامع معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بند کر دے اور ایسا کرنے کی صورت میں اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں۔

اسی بارے میں