’مذہبی تعلیمات کی تشریح کا طریقہ بدلنے کی ضرورت ہے‘

سنی العقیدہ مسلمانوں کے اہم مذہبی مرکز کے سربراہ نے شدت پسندی روکنے کے لیے، مذہبی تعلیمات کی تشریح کا طریقہ بدلنے کی اپیل کی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی جامعہ الاظہر کے خطیبِ اعلیٰ شیخ احمد الطیب نے کہا ہے قرآن اور پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے متعلق، تاریخی ناسمجھی نے اسلام کی عدم برداشت پر مبنی تشریح کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

’اردنی پائلٹ کے قاتل قرآنی سزاؤں کے حقدار ہیں‘

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سنی اسلام کے اہم مرکز قاہرہ کی جامعہ الاظہر کے خطیبِ اعلیٰ شیخ احمد الطیب سعودی عرب کے شہر مکہ میں ’اسلام اور دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے نام سے ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’شدت پسندی کی بنیادی وجوہات قرآن و سنت کی غلط تشریحات ہیں۔‘

شیخ احمد الطیب نے مذہبی برداشت کے فروغ کے لیے اسلامی تعلیمات کی تشریح کے انداز میں اصلاحات کی اپیل کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ مسلم اُمہ کے لیے اتحاد بحال کرنے کا واحد راستہ، سکولوں اور جامعات کے اندر ایسی تشریح کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو دیگر مسلمانوں کو بے عقیدہ قرار دیتی ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اِس سے قبل شیخ احمد الطیب نے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اردن کے ایک پائلٹ کو زندہ جلا دیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

اتوار کو شروع ہونے والی مکہ کانفرنس میں اُنھوں نے دولتِ اسلامیہ کا نام نہیں لیا البتہ اُنھوں نے دہشتگرد گروہوں کے متعلق بات کی جنہوں نے اُن کے بقول ظلم و بربریت کا راستہ اپنایا ہے۔

جامعہ الاظہر کے خطیبِ اعلیٰ نے اپنے خطاب نے خطے میں عدم استحکام کی ذمہ دار ایک سازش کو قرار دیا جو بقول اُن کے صیہونیت کا ساتھ دینے والا نیا عالمی نوآبادیاتی نظام ہے۔

مکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ انتہا پسند مسلمان نہ صرف، مسلمانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں مذہب کا امیج خراب کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں