شاہ سلیمان کے مزار میں کیا خاص بات؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کے 600 سپاہیوں پر مشتمل قافلہ تقریباً 100 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ شام کے سرحدی شہر کوبانی سےگزر کر سلیمان شاہ کے مزار پر پہنچا

ترکی کے سینکڑوں فوجی اور بے شمار بکتر بند گاڑیاں شام میں داخل ہو چکی ہیں اور ان کا ہدف ایک مزار سے خلافت عثمانیہ کے جدِّ امجد کی میت کو نکال کر مزار کو تباہ کرنا ہے۔

ذیل میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو ڈیوس نے جائزہ لیا ہے کہ اس مزار میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ جس کے لیے ترکی اس حد تک جا رہا ہے۔

شاہ سلیمان کا خستہ حال مزار شام میں فٹبال کے گراؤنڈ جتنے بڑے ایک میدان میں واقع ہے اور یہ خطہ زمین اگرچہ شام کے اندر ہے لیکن یہ جگہ ترکی کی ملکیت ہے۔ اس مزار کی خستہ حالی کا یہ مطلب بہرحال نہیں ہے کہ ترکی کے لیے اس کی تاریخی اور سیاسی اہمیت میں کوئی کمی ہوئی ہے۔

شاہ سلیمان ایک ترک قبائلی رہنما تھے جو ان کے مزار پر لگی ہوئی ایک تحریر کے مطابق سنہ 1178 میں پیدا ہوئے اور سنہ 1236 میں دریائے فرات میں ڈوب کر اس وقت انتقال کر گئے تھے جب وہ اس علاقے میں اپنے قبیلے کے لیے کسی مسکن کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔

اگرچہ کچھ لوگ مزار پر لگی ہوئی اس سرکاری تحریر کے مندرجات پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن کہانی کے مطابق شاہ سلیمان کے پیروکار اسی راستے سے شمال میں ایک ایسے مقام کی جانب جا رہے تھے جو بعد میں جدید ترکی کا حصہ بن گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GOOGLE
Image caption دریائے فرات کے کنارے وہ زمین کا ٹکڑا جہاں پر قائم شاہ سلیمان کے مزار کو ترک فوجیوں نے اب تباہ کر دیا ہے

یہی وہ مقام تھا جہاں بعد میں شاہ سلیمان کے پوتے، عثمان اوّل نے خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ یہ وہی خلافت عثمانیہ تھی جو صدیوں بعد جب اپنے عروج پر پہنچی تو اس کا دارالحکومت استنبول ٹھہرا اور اس وسیع و عریض خلافت کا دائرہ اختیار شمال مشرقی یورپ سے لیکر مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔

اگرچہ 20ویں صدی کے آغاز تک خلافت عثمانیہ کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور جدید ترکی دنیا کے نقشے پر ابھر چکا تھا، لیکن ترکی کے لیے شاہ سلیمان کے مزار کی قومی اہمیت پھر بھی اتنی زیادہ تھی کہ سنہ 1921 میں ترکی نے فرانس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں طے پایا کہ اس مزار کی حفاظت کی جائے گی۔ اُس وقت شام کا صوبۂ حلب کا علاقہ فرانس کے زیر تسلط تھا۔

اُس وقت سے اب تک ترکی ہمیشہ اس مزار اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے میدان پر اپنا قانونی حق جتاتا رہا ہے اور اس نے نہ صرف ہمیشہ یہاں اپنے فوجی تعینات رکھے بلکہ اپنا قومی پرچم بھی لہرائے رکھا۔ جب سنہ 1974 میں جھیل اسد کی تعمیر کے لیے سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ بنانے کا وقت آیا تو مزار کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر 80 کلومیٹر شمال کی جانب منقتل کر دیا گیا۔

ترکی کی سرحدوں سے باہر یہ ترکی کا واحد علاقائی اثاثہ ہے اور اس کے ساتھ ترک لوگوں کی شدید جذباتی وابستگی رہی ہے، لیکن گذشتہ کچھ برسوں سے شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد اس مزار کی سیاسی حیثیت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔اگست 2012 میں ترک صدر طیب اردوگان نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ شام میں متحارب گروہوں میں سے کسی نے بھی شاہ سلیمان کے مزار پر کسی قسم کی کارروائی کی تو ترکی اسے ’ نہ صرف ترکی بلکہ نیٹو پر بھی حملہ تصور کرے گا۔‘

اور پھر ان خبروں کے بعد کہ گذشتہ ایک سال سے دولتِ اسلامیہ کے جنگوؤں نے مزار پر تعینات ترک فوجیوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، ترک پارلیمان نے جہادیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی منظوری بھی دے دی۔

تاہم، حال ہی میں صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار ایک جنگجوگروہ کی تربیت میں امریکہ کا ساتھ دینے کے باوجود، ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کھُل کر میدان میں آنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر شام میں جاری لڑائی میں شاہ سلیمان کے تاریخی مزار پر حملہ ہو جاتا تو ترک حکومت پر عوامی دباؤ میں اس قدر اضافہ ہو سکتا تھا کہ اس کے بعد حکومت کے لیے دولت اسلامیہ کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی نہ کرنا ممکن نہ رہتا۔

اس تناظر میں مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ترک فوجیوں نے شاہ سلیمان کے مزار کو اس مقام سے ہٹا لیا ہے، ترک قوم نے سکھ کا سانس لے لیا ہے۔

سنیچر کو کی جانے والی مزار کی منقتلی کی اس کارروائی کے بعد ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ترک فوج کو ہدایت کر دی تھی کہ وہ ہمارے روحانی اثاثے اور مزار پر تعینات اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘

اس کارروائی کے بعد ترک ذرائع ابلاغ میں جو تصویریں شائع ہوئیں۔ ان میں فوجیوں کو ترک سرحد کے قریب ایک نئے مقام پر اپنا قومی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔

ترک حکام کو امید ہے کہ شاہ سلیمان کا مزار آخر اس مقام پر آ گیا ہے جہاں سے اسے اب کبھی بھی ہٹانا نہیں پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک حکام کو امید ہے کہ شاہ سلیمان کا مزار آخر اس مقام پر آ گیا ہے جہاس سے اسے اب کبھی بھی ہٹانا نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں