’ایران جوہری پروگرام پر نتن یاہو اور موساد کی آرا مختلف‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نتن یاہو نے اقوام متحدہ کو بتایا تھا کہ ایران 2013 میں جوہری ہتھیار بنا لے گا

منظر عام پر آئی خفیہ کیبلز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے موقف کے ساتھ اسرائیلی انٹیلیجنس متفق نہیں تھی کہ ایران ایک سال میں جوہری بم بنا لے گا۔

یاد رہے کہ 2012 میں اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کو بتایا تھا کہ ایران کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اگلے برس تک جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔

الجزیرہ اور برطانوی اخبار دا گارڈین میں چھپنے والی ’لیک کیبلز‘ کے مطابق ملک کی خفیہ ایجنسی موساد کی رپورٹ اس کے برعکس تھی جس میں جوہری پروگرام کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ’ایران ایسی سرگرمی نہیں کر رہا جو ہتھیار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘

ایک اسرائیلی افسر نے اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ خبر درست ہے۔

Image caption ایران کے جوہری پروگرام پر موساد اور اسرائیلی وزیراعظم کا موقف بالکل مختلف تھا

ستمبر 2012 میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کے نمائندوں کے سامنے ایک بم کا نقشہ پیش کیا۔ انھوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ایک ’واضح سرخ لکیر کھینچیں‘۔

لیکن 22 اکتوبر 2012 میں ہی سامنے آنے والی موساد کی رپورٹ اس کے برعکس تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران کم درجے کی یورینیم افزوردگی کر رہا ہے تاہم ’بظاہر یہ نہیں لگتا کہ وہ اعلیٰ درجے پر اس کی افزردگی کے لیے تیار ہے‘ جو جوہری ہتیھار بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

اگرچہ ایران اس وقت ہتھیار بنانے کے لیے کسی سرگرمی میں مصروف نہیں۔

یاد رہے کہ ایک خفیہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چھ ممالک تہران کے جوہری منصوبے کے حوالے سے ایک متفقہ معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے کوشاں ہیں جس کے متعلق ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ پرامن ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم کو تین مارچ کو امریکی کانگرس سے خطاب بھی کرنا ہے۔

اسی بارے میں