دولتِ اسلامیہ نے درجنوں شامی عیسائیوں کو یرغمال بنا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ شام کے مختلف علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں کر چکی ہے

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں عیسائی آبادی کے ایک گاؤں پر قبضہ کر کے درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔

برطانیہ میں موجود شام سے متعلق انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے ادارے کے مطابق کم از کم 90 عیسائی مرد، خواتین اور بچوں کے اغوا کی کارروائی تل تمر کے قریب حملوں کے دوران کی گئی۔

اس دوران کچھ شامی عیسائی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور مشرق کی جانب کرد کنٹرول شہر حسکہ چلے گئے۔

عیسائی آبادی کا اغوا ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی صورت میں کرد فوج کا ساتھ دے رہا ہے۔

گذشتہ روز ایک کرد اہلکار نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو تل ہیمس کے گاؤں سے پانچ کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ سیرین آبزرویٹری نے کرد فوج کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز دولتِ اسلامیہ کے کم سے کم 12 جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

عراقی کرد ملیشیا بھی مشرق کی جانب عراقی علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

حسکہ صوبے کا علاقہ جس کی سرحد ترکی اور عراق کے دولتِ اسلامیہ کے زیرِ انتظام علاقوں سے ملنے کے باعث دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اس سے قبل بھی شام میں مختلف کارروائیوں میں دولتِ اسلامیہ کلیساؤں اور عیسائیوں کے مزاروں کو نشانہ بنا کر تباہ کر چکی ہے۔

اسریان نامی عیسائی آبادی کا یہ گاؤں شامی حکومت کا حامی ہے اور وہ جنگ میں شدت پسدوں کے خلاف لڑائی میں شریک تھا۔

اس علاقے میں عیسائی آبادی صدیوں سے آباد تھی تاہم حالیہ عرصے میں ان پر ہونے والے ظلم وستم کے بعد ان کی تعداد میں غیر معمولی طور پر کمی ہوچکی ہے۔

.

اسی بارے میں