سر میلکم ریفکنڈ نے الزامات کے بعد چیئرمین شپ چھوڑ دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیرِخارجہ سر میلکم ریفکنڈ نے مبینہ ویڈیو میں دعوی کیا کہ وہ دنیا بھر میں تمام برطانوی سفیروں تک ’کارآمد رسائی‘ کا انتظام کر سکتے ہیں

برطانیہ کے سابق وزیرِخارجہ سر میلکم ریفکنڈ پارلیمنٹ کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی کے چیرمین کے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے مطابق سر میلکم ریفکنڈ کنزرویٹو پارٹی کے ایم پی اے کا عہدہ بھی چھوڑ دیا ہے۔

ان پر پر ہزاروں پاؤنڈز کے بدلے اپنی خدمات پیش کرنے کا الزام تھا۔

منگل کی صبح ان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ان کے بارے میں جاری حالیہ تنازع کا ان کے پارلیمنٹ کی انٹیلیجنس اینڈ سکیورٹی کمیٹی چیئرمین کے عہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

’پھر بھی میں نے آج اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے کہ اگرچہ میں کمیٹی کا ممبر رہوں گا، میں چیئرمین کا عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔‘

یاد رہے کہ دو برطانوی وزرائے خارجہ کی خفیہ طور پر فلمبندی کی گئی ہے جس میں بظاہر انھیں ہزاروں پاؤنڈ کے بدلے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

وزرائے خارجہ جیک سٹرا اور سر میلکم ریفکنڈ پر یہ الزامات ’دا ٹیلیگراف‘ اخبار اور چینل فور کے ذریعے کیے جانے والے خفیہ آپریشن کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اس فلم کو بنانے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود کو ایک نقلی چینی کمپنی کے اہلکار کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ دونوں وزیروں نے خود کو معیار طے کرنے والے پارلیمانی کمشنر کے طور پر بیان کیا۔

تاہم دونوں وزرا ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں جیک سٹرا کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح انھوں نے ’ریڈار میں رہتے ہوئے‘ ایک کمپنی کے لیے یورپی یونین کے ضابطے میں تبدیلی کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بدلے اس کمپنی نے انھیں 60 ہزار پاؤنڈ سالانہ ادا کیا تھا۔

دوسری جانب سر میلکم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا بھر میں تمام برطانوی سفیروں تک ’کارآمد رسائی‘ کا انتظام کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار رابن برینٹ نے بتایا کہ اس بارے میں مکمل تحقیقات میں کئی ماہ لگتے سکتے ہیں لیکن اس درمیان سٹرا کو ان کی اپنی درخواست پر لیبر پارٹی سے معطل کر دیا گيا ہے جبکہ سر میلکم کو معطل نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں