انور ابراہیم کا خاندان شاہی معافی کا طالب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملائیشیا کے آئین کے مطابق سزا ملنے کے 14 روز کے اندر اندر انور ابراہیم کے سیاسی کرئیر پر خود بخود پانچ سالہ پابندی عائد ہو جائے گی اور یہ اسی صورت میں ملتوی ہو سکتی ہے جو وہ اس کے خلاف اپیل دائر کریں

ملائیشیا میں ہم جنسی پرستی کے الزام میں قید حزب اختلاف کے رہنما انور ابراہیم کے خاندان نے ملک کے بادشاہ سے معافی کی اپیل کی ہے۔

انور ابراہیم پر اپنے ایک مرد ملازم کے ساتھ سنہ 2008 میں جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے اپنے خلاف ان الزامات کو ہمیشہ سیاسی مخالفت کے تحت سازش قرار دیا ہے۔

انور ابراہیم کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’سیاسی قیدی‘ اور جیل میں ان کی صحت کو خطرہ ہے۔

معافی کی اس اپیل کا مطلب ہے کہ انور ابراہیم کے سیاسی کریئر پر پابندی عائد ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

انور ابراہیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملائیشیا کے حکمران اتحاد کے لیے اصل خطرہ ہیں جن کا اصرار ہے کہ انھیں سنائے جانے والی سزا منصفانہ ہے۔

ملائیشیا کے آئین کے مطابق سزا ملنے کے 14 روز کے اندر اندر انور ابراہیم کے سیاسی کریئر پر خود بخود پانچ سالہ پابندی عائد ہو جائے گی اور یہ اسی صورت میں ملتوی ہو سکتی ہے جو وہ اس کے خلاف اپیل دائر کریں۔

اس سے قبل انور ابراہیم نے کہا تھا کہ وہ معافی کا مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ معافی مانگنے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو خطا وار قبول کرتے ہیں۔

انور ابراہیم کے خاندان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ان کی بیٹی نور نوحا کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے خلاف چلایا جانے والے مقدمہ دراصل انصاف کا اسقاط حمل تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انور ابراہیم پر اپنے ایک مرد ملازم کے ساتھ سنہ 2008 میں بھی جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے اپنے خلاف ان الزامات کو ہمیشہ سیاسی مخالفت کے تحت سازش قرار دیا ہے

ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں آئینی عمل پر بھروسہ ہے اور اس بات پر یقین ہے کہ جب سیاسی مداخلت کے بغیر مقدمے کے تمام حقائق سامنے لائیں جائیں گے تو ہمیں انصاف ملے گا۔‘

انور ابراہیم نے دس فروری کو جیل بھیجے جانے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا ’یہ سارے الزامات میرا سیاسی کریئر ختم کرنےکی ایک سازش کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔‘

انور ابراہیم کی پیپلز جسٹس پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت معافی کے فیصلے کا پورا احترام کرتی ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انور ابراہیم کو طاقتور حکمران اتحاد کے خلاف سر اٹھانے کی سزا دی جا رہی ہے۔

پیپلز جسٹس پارٹی کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ ہم عدالتی عمل کی صریحاً خلاف ورزی کو تسلیم کرتے ہیں اور بادشاہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ صورتِ حال کو ٹھیک کرنے کے لیے مداخلت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابراہیم انور کی فوری رہائی کے علاوہ انصاف کی فراہمی کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں