ہزاروں افراد مسلمان وکیل کے حامی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مریم ویسزادہ دنیا بھر کے سفیدفام انتہاپسندوں کی جانب سے نسلی تعصب کا آن لائن نشانہ بنیں۔

آسٹریلین افراد ایک مسلمان وکیل کے حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ کیونکہ وہ دنیا بھر کے دائیں بازو کےگروپس اور نسل پرست سفید فارم افراد کی جانب سے نسلی تعصب کا آن لائن شکار بنیں۔

اس کہانی کا آغاز وول ورتھز سٹور ہر ایک مردانہ بنیان کی فروخت سے ہوتا ہے۔ گذشتہ برس اس آسٹریلین ریٹیلر کی شاخوں نے حب الوطنی پر مبنی ایک منتازع مردانہ بنیان کی فروخت شروع کی تھی۔ جس پر آسٹریلیا کے جھنڈے کے نیچے ’اگر آپ محبت نہیں کرتے، تو چلے جائیں‘ کے الفاظ درج تھے۔

یہ نعرہ ملک میں تارکین وطن کی خلاف لیا جا سکتا ہے اور مریم ویسزادہ نے ایسا ہی سمجھا۔ وہ ایک وکیل ہیں اور آسٹریلیا میں مسلمان کمیونٹی کی نمایاں وکالت کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک دکان پر بیچی جا رہی اس بنیان کی تصور ٹویٹ کی اور اس کے ساتھ لکھا ’میں دلبرداشتہ ہوں کہ وول ورتھز اپنے کیرنز سٹورز پر مبینہ طور پر یہ متعصب بنیانیں فروخت کر رہا ہے۔‘ اس کا غصے بھرا یہ پیغام آن لائن ٹرینڈ کرنے لگا اور ریٹیلر نے مذکورہ بنیان ہٹا دی۔

لیکن کہانی کا انجام یہیں نہیں ہوتا۔ اس وقت سے اب تک، مریم ویسزادہ دنیا بھر کے انتہاپسندوں کی جانب سے نفرت کا آن لائن نشانہ بنیں۔ایسا اس وقت شروع ہوا جب آسٹریلین ڈیفینس لیگ نامی ایک دائیں بازو کے گروپ نے مریم یسزادہ کے تبصرے فیس بک پر اپنے 5,000 مداحوں کے ساتھ شیئر کیے۔ ان میں سے ایک 22 سالہ خاتون نے مریم ویسزادہ کو فیس بک پر تلاش کیا ہے اور ان کو مسلسل نسلی تعصب پر مبنی گالیاں دیں۔ اس واقعہ کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور گذشتہ ہفتے کوئینزلینڈ پولیس نے ہراساں کرنے کے الزام میں اس خاتون کو گرفتار کر لیا۔

اس جمعے کو ایک امریکی نسل پرست سفید فام بلاگ، جو آسٹریلیا میں بھی خاطرخواہ پڑھا جاتا ہے، اس معاملے میں کود پڑا۔ ’ڈیلی سٹرومر‘ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں ویسزادہ کے بارے میں نازیبا زبان کا استعمال کی گئی اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہاں اس مضمون کا کچھ حصہ پیش ہے، جس میں سے نازیبا الفاظ حذف کر دیئے گئے ہیں:

’حضرات، میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹس نکالیں، جس قدر ممکن ہو زیادہ بنائیں۔۔۔ ہمیں انہیں گالیاں دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تکلیف دہ ہونا ہے، اور ہمیں ان کی مسلم احساسات کو بھی ٹھیس پہنچانا ہے۔‘

چانچہ ٹرولز نے ٹویٹس کے ذریعے ویسزادہ کو گالیوں بھرے پیغامات بھیجنا شروع کر دیئے اور ان کے جواب میں ویسزادہ نے اپنے فالوورز سے کہا کہ وہ نازیبا پیغامات بھیجنے والے ان ٹویٹر اکاؤنٹس کو رپورٹ کریں۔ ایک ہیش ٹیگ IStandWithMariam# یعنی’ہم مریم کے ساتھ ہیں‘ بھی شروع کی۔

مریم ویسزادہ کو نازیبا پیغامات بھیجنے والے بہت سارے ٹویٹر اکاؤنٹس بند کر دیئے گئے ہیں۔ اب آسٹریلیا میں لوگ انہیں خیرسگالی کے پیغامات بھیجنے کے لیے IStandWithMariam# ہیش ٹیگ کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک پیغام میں لکھا گیا ’میں مریم کے ساتھ ہوں کیونکہ ان کی جنس، مذہب اور سیاست غیرمتعلقہ ہیں۔میں مریم کے ساتھ ہوں کیونکہ وہ ایک اچھی اور عمدہ آسٹریلین ہیں‘ اور پیغام میں لکھا تھا کہ ’میں مریم کے ساتھ ہوں اور نسل پرستی، تعصب، امتیازی سلوک اور اسلامو فوبیا کے میں بھی خلاف ہوں، اورآسٹریلیا بھی‘ ۔

اسی بارے میں