برطانیہ پہلا ملک جہاں ’تین افراد کا مشترکہ بچہ ہو سکتا ہے‘

Image caption اس عمل کے ذریعے پہلا بچہ 2016 کے آغاز تک پیدا ہو سکتا ہے

برطانیہ دنیا کا ایسا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے تین افراد کے جینیاتی مواد سے بچے کی پیدائش کے قانون کو منظور کیا ہے۔

آئی وی ایف کے ایک تجدید شدہ ورژن نے قانونی مراحل کی آخری رکاوٹ برطانوی دارالامرا سے ووٹ کے بعد عبور کی جس کے بعد اب فرٹیلیٹی یعنی تولیدی امور کا نگران ادارہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کیسے مہلک جینیاتی بیماریوں کا شکار بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے لائسنس کا طریقۂ کار وضع کیا جائے۔

اس عمل کے ذریعے پہلا بچہ 2016 کے آغاز تک پیدا ہو سکتا ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں برطانوی دارالعوام میں اراکین نے بھاری اکثریت سے ’تین افراد کے بچے‘ کے قانون کی منظوری دی تھی۔

آج دارالامرا نے اس منصوبے کو روکنے کی کوشش کو 232 ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کر دیا۔

مائٹو کونڈریا جسم کے تقریباً ہر سیل میں موجود چھوٹے چھوٹے دانوں کو کہتے ہیں جو خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان کا اپنا ڈی این اے ہوتا ہے، تاہم وہ شکل وغیرہ جیسے خصائل پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

پارلیمان میں بحث کے دوران کئی وزیروں کا کہنا تھا کہ دو خواتین اور ایک مرد کے جینیاتی مواد کے ملاپ سے بچے کی پیدائش ’ان گھرانوں کے لیے روشنی کی کرن ہے‘ جو کسی موروثی مرض کا شکار ہیں اور اس خوف سے بچے پیدا نہیں کر پاتے کہ ان کے بچے بھی اس کا شکار ہو جائیں گے۔

خراب مائٹو کونڈریا صرف ماں کے ذریعے سے اولاد میں منتقل ہوتے ہیں، اور ان کی وجہ سے دماغ کو نقصان، پٹھوں کی تضیع، ہارٹ فیلئیر اور اندھا پن یا بے بصری جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔

اس طریقہ کار میں جدید ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی تکنیک کے ذریعے ماں اور باپ کے ڈی این اے کو ایک عطیہ دینے والی خاتون کے صحت مند مائٹو کونڈریا سے جوڑا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

نتیجتاً جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس میں عطیہ دینے والی خاتون کا 0.1 فیصد ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔ یہ ایک مستقل تبدیلی ہے جو اگلی پیڑھیوں تک منتقل ہوتی ہے۔

یہ طریقہ کار جس پر نیو کاسل میں کام کیا گیا ہے، سنڈرلینڈ سے تعلق رکھنے والی شیرن برناردی جیسی کئی خواتین کی مدد کر پائے گا جن کے ساتوں بچے ناقص مائٹو کونڈریا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

دارالامرا میں بحث کے دوران وزیرِ صحت لارڈ ہاؤ نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے خاندانوں کو „حقیقر معنوں میں امید‘ کی کرن نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اس حوالے سے دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور تین تحفظ کے جائزوں کے بعد ماہرین نے رائے دی ہے کہ یہ طریقہ محفوظ ہے۔

لارڈ ہاؤ نے ایوان میں کہا کہ ’خاندان یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مدد کے لیے دستیاب ہے اور وہ اس کا استعمال کر سکتے ہیں اور انہوں نے ماہرین کی جانب سے اخذ کیے گئے نتائج کو نوٹ کیا ہے۔ یہ میری رائے میں ظالمانہ اور گمراہ کُن ہو گا اس موقع سے فائدہ اٹھانے سے انکار کرنا بغیر کسی ضرورت کے۔‘

لارڈ ڈیبین نے اس کے خلاف کہا کہ تحفظ کے حوالے سے خدشات ہیں اور انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے بچے پیدا کرنا شاید قانونی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت واضح ہے کہ اس میں بہت واضح غیر رضامندی ہے جسے میں سادگی سے یوں بیان کر سکتا ہوں کہ کیا یہ کام یورپین قوانین کے تحت قانونی ہوگا۔‘

ایک سابق لیبر اٹارنی جنرل بیرنس سکاٹ لینڈ نے بھی اس کی قانونی حیثیت پر سوال کیا اور کہا کہ ’اس میں جلدی کیسی۔‘

ہر ایک اس بات پر اتفاق کرتی ہوں کہ ہمیں اس درست کرنا ہے اور اگر ہم کوئی ایسی چیز کرنے جا رہی ہیں جو بہت نرالا ہے، مختلف ہے اور عالمی طور پر اہم ہے اور ہمیں اس حوالے سے بہت پر اعتماد ہونا چاہیے مضبوط بنیادوں پر اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم نقصان پہنچائیں گے۔‘

فرٹیلیٹی ڈاکٹر لارڈ ونٹسن نے دارالامرا کو بتایا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ جو ہم نے آج شام سنا اس کی بجائے حقیقت یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی معاشرے کے تانے بانے کو کسی طرح بھی ٹھیس نہیں پہنچاتی ہے۔‘

اسی بارے میں