برطانوی فوجی کے لیے وکٹوریہ کراس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغانستان میں خدمات کے عوض یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ تیسرے مگر پہلے زندہ فوجی ہیں

برطانوی فوج کے ایک چھاتہ بردار جس نے افغانستان میں طالبان کے حملے کے دوران اپنی ذاتی حفاظت کی پروا نہ کرتے ہوئے ساتھیوں کی جان بچائی اسے برطانوی فوج کا اعلی ترین اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا ہے۔

پیرا شوٹ ریجمنٹ میں شامل 27 سالہ لارنس کارپورل جوشوا لیکی سنہ 2013 میں ہونے والے حملے کے دوران اپنی بہادری کی وجہ سے مقبول ہوئے تھے۔

افغانستان میں خدمات کے عوض یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ تیسرے مگر پہلے زندہ فوجی ہیں۔

ہیمپشائر سے تعلق رکھنے والے لیکی کا کہنا ہے کہ وہ یہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

لگ بھگ 70 برس کے بعد ان کے خاندان کے کسی شخص کو وکٹوریہ کراس ملا ہے۔ ان کے کزن سارجنٹ گرے لیکی کو جنگ عظیم دوم میں ان کی خدمات کے عوض نومبر 1945 میں وکٹوریہ کراس سے نوازا گیا تھا۔

جوشوا کو 22 اگست سنہ 2013 میں طالبان کے مضبوط گڑھ ہلمند میں ہونے والے ایک حملے کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا۔

دشمن کی فائرنگ کی زد میں آنے کے باجود لیکی دو مرتبہ زخمی امریکی فوجیوں کی مدد کے لیے گئے اور عسکریت پسندوں کے گھیرے میں آنے والی بین الاقوامی فورسز کو سنبھلنے میں مدد دی۔

ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد برطانوی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پر 20 کے قریب عسکریت پسندوں نے حملہ کر دیا تھا۔ تمام فوجی ایک پہاڑی کے پہلو میں پھنس گئے تھے جسے عسکریت پسندوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ لارنس کارپورل جوشوا لیکی فائرنگ کے باوجود پہاڑی کی چوٹی تک گئے اور مشین گنز سے عسکریت پسندوں پر فائرنگ کی۔ خطرے کے باوجود وہ زخمی ساتھی فوجیوں کے پاس لوٹے اور واپس چوٹی پر جانے سے پہلے وہ ایک دوسری مشین گن کے پاس گئے جہاں سے وہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس لڑائی میں 11 شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

لیکی کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے دوران میں صرف ایک چیز سے خوفزدہ تھا کہ ’میں اپنی فوج کو نیچا نہ دکھاؤں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ایسے میں آپ یہ نہیں سوچ رہے ہوتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا بلکہ صرف آپ یہ سوچتے ہیں میں صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کیا کروں؟‘

’یہ فوج کی زندگی کا حصہ ہے۔ بالخصوص چھاتہ بردار ریجمنٹ کے لیے ، ہم ہمیشہ غیر متوقع صورتحال کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ان کا کہنا تھا ’اس صورتحال میں یہ سب کرنے کے لیے میں بہترین پوزیشن میں تھا۔ اگر یہی کام میرا کوئی دوسرا ساتھی کرتا تو آج یہ اعزاز اس کا ہوتا۔‘

’میں نہیں سمجھتا یہ صرف میرا کمال تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری پوری یونٹ کی نمائندگی تھی جو افغانستان میں موجود تھی۔‘

ایک بیان میں ان کے والدین نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے اعزاز پر بھی فخر محسوس کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں