’دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں عراقی اقلیتوں کا وجود خطرے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رپورٹ میں بتایا گیا ہے سنجار میں دولت اسلامیہ نے بعض ایزدیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں متحرک شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق کے بیشتر علاقوں سے اقلیتوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

ان تنظیموں نے ایک رپورٹ میں اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا احاطہ کیا ہے جن میں سر قلم کرنا، مذہب کی جبراً تبدیلی، جنسی زیادتی اور تشدد شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے واقعات جنگی جرائم یا نسل کشی کے مترادف ہیں۔

اس تحقیق میں شامل انسانی حقوق کے ادارے ’انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل لا اینڈ ہیومن رائٹس‘ کا کہنا ہے عراق میں اقلیتوں کا وجود خطرے میں ہے۔

اس رپورٹ کا محور عراق کے عیسائیوں کے علاوہ کاکائی، شاباک، ترکمان اور ایزدی اقلیتیں ہیں اور اس میں 2014 میں دولت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

رپورٹ کے مطابق موصل کا کنٹرول سنبھالتے ہیں دولت اسلامیہ نے اقلیتوں کو نشانہ بنایا اور عیسائیوں سے کہا گیا کہ وہ یا تو موصل سے چلے جائیں یا پھر انھیں مار دیا جائے گا۔

ایک عراقی ممبر پارلیمان نے بتایا کہ تقریباً شاباک اقلیت سے تعلق رکھنے والے 160 افراد کو مار دیا گیا جبکہ دوسروں کو اپنا سارا سازو سامان چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور ان لوگوں کے حالات فقیروں جیسے ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے سنجار میں دولت اسلامیہ نے بعض ایزدیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور بعض کو یا تو اغوا کر لیا یا ہلاک کر دیا۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے اغواء کی گئی ایک خاتون کی ما‎‎ں نے بتایا ’وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ انہوں نے اس کے بال کاٹ دیے اور پٹائی کی۔ اس کے جسم پر اب بھی بہت سے زخموں کے نشان ہیں۔ میں ان نشانوں کے بارے میں تو سوچنا بھی نہیں چاہتی جو اس کی کمر پر ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دیکھو اس کو، یہ تو ایک لفظ بھی نہیں بولتی ہے۔ اس کے بچے والد کے پاس ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ بچے اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھیں۔ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے اغوا کیے جانے سے پہلے یہ ایک ہنستی کھیلتی لڑکی تھی۔‘

انسانی حقوق کی تنظيم ’نو پیس ود آؤٹ جسٹس‘ کے اہلکار ایلیسن سمتھ کا کہنا تھا ’یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دولت اسلامیہ انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کی مجرم ہے اور ممکن ہے کہ وہ نسل کشی میں بھی ملوث ہو۔‘

رپورٹ میں اقلیتیوں کے بہتر تحفظ فراہم کرنے اور ان کے حالات بہتر کرنے سے متعلق بعض تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کو اضافی مدد فراہم کی جائے، مجرموں کے خلاف انصاف کی عالمی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں اور دولت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق میں آثارِقدیمہ سے متعلق 12000 زائد مقامات ہیں جن میں سے 1800 پر دولتِ اسلامیہ قابض ہے

مجسموں کی تباہی ہر سلامتی کونسل کا اجلاس

ادھر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے قدیم مجسموں کی تباہی کی ویڈیو کے اجرا کے بعد عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو کی اپیل پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

جمعرات کو سامنے آنے والی اس ویڈیو میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تباہی کے مناظر عراقی شہر موصل کے عجائب گھر کے ہیں جہاں موجود مجسموں کو ہتھوڑوں اور ڈرل مشین کے ذریعے تباہ کیا گیا۔

دولتِ اسلامیہ کی اس ویڈیو میں عراق میں آثارِ قدیمہ کے مقام بابِ نرغال پر بھی مجسموں کی تباہی دکھائی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں عراق کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔

یونیسکو کی سربراہ ارینا بوکوا نے مجسموں کی تباہی پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ حملہ ثقافتی المیے سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ یہ سلامتی کا معاملہ بھی ہے کیونکہ یہ فرقہ واریت، پرتشدد انتہا پسندی اور عراق میں لڑائی کو بھڑکائے گا۔‘

دولتِ اسلامیہ نے یہ ویڈیو سماجی رابطوں کے اکاؤنٹ کے ذریعے جاری کی ہے۔ ویڈیو میں سیاہ عبا پہنے ایک شخص کو دکھایا گیا ہے جو مجسموں کو دھکیلتا ہے اور پھر بھاری ہتھوڑوں اور سوراخ کرنے والی مشینوں سے انھیں تباہ کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ فرقہ واریت، پرتشدد انتہاپسندی اور عراق میں لڑائی کو بڑھائے گا: ارینا بوکوا

ان مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ عبا میں ملبوس شخص پتھر سے بنے ایک پروں والے بیل میں سوراخ کرتا ہے جو نویں صدی قبل مسیح کا ہے۔

اسی ویڈیو میں ایک جنگجو مذہبی طور پر ان مجسموں کی تباہی کا جواز دینے کے لیے یہ وضاحت پیش کرتا ہے کہ سنگ تراشی کا یہ غلط تصور ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پتھر سے تراشے گئے یہ مجسمے انوکھے اور انمول تھے۔

اردن میں مقیم عراقی ماہرِتعمیرات احسان فیتھی نے فرانسیسی ایجنسی سے گفتگو میں مجسموں کی تباہی کو ایک بہت بڑا نقصان، ناقابلِ یقین اقدام اور ثقافتی دہشت گردی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے جون 2014 میں عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا تھا اور دولتِ اسلامیہ نے عراق میں موجود آثارقدیمہ کے 12 ہزار رجسٹرڈ مقامات میں سے 1800 کے قریب پر قابض ہے۔

اسی بارے میں