’امریکہ کو سائبر حملوں سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کو اب سائبر کی عالمی جنگ کا خطرہ باقی نہیں رہا: جان کلیپر

امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے غیر ملکی حکومتوں اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے سائبر حملوں کو ملک کو درپیش خطرات میں سرِفہرست قرار دیا ہے۔

نیشنل ایٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر کے دفتر سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے سائبر کمانڈ ترتیب دے رہی ہے۔

رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آن لائن حملوں‘ سے امریکی معیشت اور قومی سلامتی کو کمزور کیا جائے گا۔

اس میں چین، ایران اور شمالی کوریا کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات کو گانگریس کی کمیٹی میں اپنے بیان میں جیمز کلیپر نے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو سائبر جنگ سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ امکان اب قدرے کم دکھائی دیتا ہے ہیکرز بنیادی امریکی ڈھانچے مثلاً معاشی نظام یا پاور گرڈز کو ناکارہ بنائیں گے ۔

تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ ’ہم آنے والے عرصے میں چھوٹے سے بڑے پیمانے پر مختلف ذریعوں سے سائبر حملوں کو دیکھ رہے ہیں جو ہماری معاشی مسابقت اور قومی سلامتی پر مجموعی طور پر اثر ڈالیں گے۔‘

اپنے بیان میں نیشنل ایٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کہا کہ روس امریکی مفادات پر سائبر حملوں کی صورت میں سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نظریات کے تحت اور منافع کمانے والے مجرموں کی صورت میں ہیکرز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں امریکہ کی فوجی کمانڈ کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کو دولتِ اسلامیہ کے حامی گروہ نے ہیک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

شمالی کوریا پر الزام ہے کہ اس نے نومبر 2014 میں سونی پکچرز کا مواد چرایا تھا جبکہ ایران پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ گذشتہ سال لاس ویگاس سینڈز کاسینو کاروپویشن پر ہونے والے سائبر حملپ اس نے کروایا تھا۔

دوسری جانب تہران نے سن 2010 میں ایران کے جوہری پروگرام پر سائبر حملے کی ذمہ داری اسرائیل اور امریکہ پر ڈالی تھی۔

اسی بارے میں