مصر میں عدالتی حکم کے بعد پارلیمانی انتخابات تاخیر کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر میں 21 مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات متعدد مرحلوں میں ہونا تھے

مصر کی سپریم کورٹ کی جانب سے ایک انتخابی قانون کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعد ملک کے پارلیمانی انتخابات تاخیر کا شکار ہو گئے ہیں۔

مصر کی سپریم کورٹ کے فیصلے نے انتخابی ضلعوں سے متلعق قانون کے ایک حصے کو متاثر کیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ 21 مارچ سے شروع ہو کر اپریل تک جاری رہنی تھی۔

مصر میں 21 مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمانی انتخابات متعدد مرحلوں میں ہونا تھے تاہم اتوار کو سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکام کو اپنے منصوبوں کو دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

مصر کے انتخابی کمیشن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’نئے ٹائم ٹیبل‘ یا نئے شیڈول پر کام جاری ہے۔

مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی نے سنہ 2012 میں ملک کی پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا۔

عبدالفتاح السیسی نے سنہ 2012 میں مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو معزول کرنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ مئی سنہ 2014 میں مصر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

مصری صدر نےگذشتہ برس دسمبر میں پارلیمان کی 567 نشستیں تخلیق کرنے کے لیے حلقۂ انتخاب کے قانون کی منظوری دی تھی۔

اس قانون کے مطابق 420 نشستوں پر ایک ایک امیدوار نے انتخاب میں حصہ لینا تھا، 120 نشستیں دیگر جماعتوں کو فہرست کے مطابق دی جانی تھی اور باقی 27 نشستیں صدر کی جانب سے مختص کی گئی تھیں۔

ان قانون کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کے حامیوں کو مصری پارلیمان نے نئے چیمبر کو اکثریت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے بعد مصری صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان قانون کا ایک ماہ کے اندر اندر نیا مسودہ بنائیں۔

اس قانون کے خلاف اپیل دائر کرنے والے وکلا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا اس قانون کی موجود شکل میں ووٹر کی مناسب نمائندگی نہیں تھی۔

مصر میں پارلیمان ووٹ فوجی حکومت کی جانب سے دیے جانے والے روڈ میپ کا تیسرا اور آخری حصہ ہے۔

اس روڈ میپ کے پہلے دو مراحل میں جنوری سنہ 2014 میں نئے آئین اور صدارتی انتخابات کی منظوری تھی۔

مصر کے سابق صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کو سنہ 2012 کی پارلیمان میں اکثریت حاصل تھی۔

اس پارلیمان کو جون سنہ 2012 میں فوجی فرمان کے ذریعے تحلیل کر دیا گیا تھا اور محمد مرسی نے مصر کا صدر بننے کے بعد اس حکم نامے کو قبول کر لیا تھا۔

اسی بارے میں