’ایم آئی فائیو سے پیچھا چھڑانے کے لیے خودکشی کا خیال بھی آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایموازی نے کہا کہ انھوں نے ایم آئی فائیو سے ’نجات حاصل کرنے‘ کے لیے خودکشی کے بارے میں بھی غور کیا تھا

ایک برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ ملک کے خفیہ اداروں سے رابطے کے بعد ’جہادی جان‘ کے نام سے معروف دولتِ اسلامیہ کے برطانوی شدت پسند محمد ایموازی کو لگتا تھا کہ اب ان کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مغربی لندن کے سابق رہائشی کویتی نژاد برطانوی شہری محمد ایموازی نے یہ دعوے سنہ 2010 میں میل آن سنڈے سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کو بھیجی گئی ای میلز میں کیے تھے۔

ایموازی نے کہا تھا کہ انھوں نے ایم آئی فائیو سے ’پیچھا چھڑانے‘ کے لیے خودکشی کرنے کے بارے میں بھی غور کیا تھا۔

محمد ایموازی حالیہ چند ماہ میں دولت اسلامیہ کی ان مختلف ویڈیوز میں دیکھے گئے ہیں جن میں مغربی مغویوں کو قتل کرتے دکھایا گیا ہے۔

میل آن سنڈے کے مطابق ایموازی نے سکیورٹی معاملات کے لیے اخبار کے مدیر رابرٹ ورکیئک کو سنہ 2010 اور 2011 میں ای میلز کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption حال ہی میں جہادی جان کو دولت اسلامیہ کے کئے ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے

دسمبر سنہ 2010 کی ایک ای میل میں ایموازی نے دعوی کیا کہ ان کی ملاقات سکیورٹی سروس کے ایک شخص سے ہوئی جو ان کے لیپ ٹاپ کے خریدار کے طور پر سامنے آیا تھا۔

انھوں نے اپنے خدشات کا اظہار تب کیا جب خریدار نے سودا طے ہوجانے کے بعد انھیں ان کے پہلے نام سے پکارا جو کہ ایموازی کے مطابق انھوں نے اسے کبھی نہیں بتایا تھا۔

ایموازی نے لکھا: ’میں حیرت زدہ رہ گیا اور چند سیکنڈ کے لیے ساکت ہو گیا۔ جب وہ جانے لگا تو میں جان گیا کہ وہ انھی لوگوں میں سے ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’بعض اوقات مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں ایسا شخص ہوں جسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمد ایموازی نے یہ دعوی سنہ 2010 میں ای میلز رابطوں میں کیا تھا

اخبار کے مطابق ایموازی کو اس بات کا خوف نہیں تھا کہ ایم آئی فائیو انھیں مار ڈالے گی بلکہ وہ اس بات سے ڈر رہے تھے کہ کہیں وہ خودکشی نہ کر لیں اور’ابدی نیند سو جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا: ’میں ان لوگوں سے نجات چاہتا ہوں۔‘

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں برطانوی سکیورٹی اداروں پر ایموازی کو شام جانے اور دولت اسلامیہ میں شامل ہونے سے باز رکھنے میں ناکامی پر تنقید کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایموازی کے سکول نے اس انکشاف پر رنج کا اظہار کیا ہے

دریں اثنا یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ لندن کے جس سکول سے ایموازی نے تعلیم حاصل کی تھی اسی سکول کے ایسے دیگر دو طلبہ نے بھی دولت اسلامیہ شمولیت اختیار کی جو اسی کے دور میں وہاں زیر تعلیم تھے۔

دا سنڈے ٹیلیگراف کا کہنا ہے کہ دونوں طلبہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے ایک شام اور دوسرا صومالیہ میں الشباب کی جانب سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔

محکمۂ تعلیم کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا محکمہ ’دن رات‘ انتہا پسندی کو سمجھنے میں لگا ہوا ہے اور وہ سکولوں اور طلبہ کو امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جنھوں نے شام جیسے تشویش ناک علاقوں کا سفر کیا ہے۔

اسی بارے میں