عراق کی تکریت میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تکریت عراق کے سابق صدر صدام حسین کا آبائی قصبہ ہے جس پر دولتِ اسلامیہ نے جون سنہ 2014 میں قبضہ کر لیا تھا

عراق کے ٹی وی کے مطابق فوج نے سابق صدر صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت کا قبضہ واپس لینے کے لیے دولتِ اسلامیہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراقی فوج نے شہر پر حملہ کیا ہے اور اس آپریشن میں عراق کی فضائیہ کے جیٹ طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ شمالی صوبے صلاح الدین کے دارالحکومت تکریت میں ہونے والی کارروائی میں 30,000 فوجی حصہ لے رہے ہیں جن میں دو ہزار سنّی، شیعہ اور کرد ملیشیا رضاکار بھی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فوجی دستے تکریت شہر کے مرکز سے 10 کلومیٹر اندر تک پہنچ چکے ہیں۔

بڑا حملہ

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں عراق کے ایک فوجی افسر نے بتایا کہ فوجی دستے سمارا سے 45 کلومیٹر شمال کی جانب الدور نامی قصبے میں بڑھ رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے تکریت میں دولتِ اسلامیہ سے الگ ہونے کی صورت میں تمام سنّی قبائل کو معافی کی پیشکش کی ہے اور اسے ان کے لیے ’آخری موقع‘ قرار دیا ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم نے اتوار کو رات گئے اپنے بیان میں کا تھا کہ فوجی دستے اور ملیشیا سمارا صوبے میں اس حملے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

عراق کے فوجی دستوں کی تکریت کی جانب پیش قدمی سے قبل صوبہ صلاح الدین کے فوجی رہنماؤوں نے وزیراعظم حیدر العابدی سے ملاقات کی۔

تکریت عراق کے دارالحکومت بغداد سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس پردولتِ اسلامیہ نے جون سنہ 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

العراقیہ ٹی وی نےایک غیرتصدیق شدہ خبر کے حوالے سے کہا ہے کہ تکریت کے بیرونی حصوں سے دولتِ اسلامیہ کو نکال دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ تکریت عراق کے ان متعدد اور اہم سنّی علاقوں میں سے ایک ہے جہاں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ قابض ہے۔

تکریت عراق کے سابق صدر صدام حسین کا آبائی قصبہ ہے جس پر دولتِ اسلامیہ نے جون سنہ 2014 میں قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں