یمن میں القاعدہ نے سعودی سفارت کار کو رہا کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یمن میں حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم القاعدہ نے تین سال سے مغوی سعودی عرب کے ایک سفارت کار کو رہا کر دیا ہے۔

عبداللہ الخالدی یمن کے ساحلی شہر عدن میں سعودی عرب کے ڈپٹی قونصل تھے اور انھیں مارچ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا۔

جزیزہ نما یمن میں سرگرام القاعدہ نے مغوی سفارت کار کی متعدد ویڈیو جاری کرتے ہوئے سعودی حکام سے ان کی رہائی کے لیے زیادہ اقدامات کرنے پر زور دیتے تھے، جن کے تحت سعودی عرب میں قید تنظیم کے تمام کارکنوں کی رہائی اور تاوان شامل تھا۔

اگست 2012 میں سعودی سفارت کار کی رہائی کے لیے بات چیت میں شامل ایک شخص کے مطابق القاعدہ نے پہلے سعودی عرب سے ایک کروڑ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا تاہم بعد میں اسے بڑھا کر دو کروڑ ڈالر کر دیا تھا۔

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے وزارتِ داخلہ کا ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ الخالدی واپس ریاض پہنچ گئے ہیں۔

بیان میں رہائی کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی تاہم ان کی رہائی کے لیے سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے بے حد کوششیں کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی حکام نے اپنے سفارت کار کی رہائی کے بعد میں زیادہ تفصیل نہیں بتائی ہے

دسمبر میں القاعدہ کے شدت پسندوں نے دو مغربی مغویوں کو ہلاک کر دیا تھا جس میں ایک امریکی صحافی اور جنوبی افریقہ کے ٹیچر شامل تھے۔

امریکہ نے اس سے پہلے اپنے شہری کی بازیابی کے لیے جنوب مشرقی یمن میں کمانڈو ایکشن کیا تھا تاہم یہ کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

اسی بارے میں