فن لینڈ میں تیز رفتاری بڑی مہنگی پڑی

فن لینڈ میں ایک شخص کو گاڑی تیز چلانے کی پاداش میں چون ہزار یور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ فن لینڈ میں تیز رفتاری کے لیے جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں وہ آمدنی سے منسلک ہیں۔

جرمانہ یومیہ اجرت کے مطابق لیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی آمدن جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ جرمانہ بھی اتنا ہی زیادہ دینا ہوگا۔

لہذا جب تاجر رائمہ کوئسالہ حدِ رفتار اسی کلومیٹر والے علاقے میں ایک سو تین کلومیٹر کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے یعنی تیئس کلو میٹر زیادہ کی رفتار پر گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے گئے، تو حکام نے ان کی آمدنی کا تخمینہ لگانے کے لیے ان کے کے دوہزار تیرہ میں انکم ٹیکس کے کوشواروں کی چھان بین کی۔

ان گواشواروں کے مطابق دو ہزار تیرہ میں رائمہ کوئسالہ کی آمدنی ساڑھے چھ ملین یور تھی یعنی ساڑھے چار ملین پاؤنڈ سے زیادہ۔

اسی مناسبت سے ان سے چون ہزار یورو طلب کر لیےگئے۔

مسٹر کوئسالہ کو تیز رفتاری پر جرمانے کی سزا انتہائی سخت لگی اور انھوں نے اپنی فیس بک پیج پر لکھا کہ میں اس سے پہلے کبھی بیرون ملک رہائش کا نہیں سوچا تھا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ فن لینڈ زیادہ کمائی والوں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر ان کے ہم وطنوں نے ان کی قطعی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ایک شخص نے لکھا کہ اگر آپ قانون نہیں توڑیں گے تو آپ کو کوئی جرمانہ نہیں بھرنا پڑے گا۔یہ بھی لکھا گیا کہ دولت مند تاجر کو شکایت کرنے کے بجائے اپنے کیے پرشرمندہ ہونا چاہیے۔

ایک اور نے لکھا کہ جرمانے کی چھوٹی رقوم امیروں کو قانون توڑنے سے نہیں روک سکتیں۔ امیروں کو بھی اتنی ہی تکلیف ہونی چاہیے جتنی کہ اس صورت میں کم آمدنی والوں کو ہوتی ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نظام منصفانہ نہیں ہے، امیروں کو ان کے دولت مند ہونے کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔

ویسے مسٹر کوئسالہ کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ زیادہ نہیں کماتے۔ دو ہزار دو میں نوکیا کمپنی کے اعلیٰ اہلکار جن کی آمدنی چودہ ملین یور تھی، اپنی موٹر سائیکل تیز دوڑانے پر ایک لاکھ بارہ ہزار یورو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں