ہیلری پر ذاتی ای میل کے استعمال پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وفاقی قانون کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے

امریکہ کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کی جانب سے سرکاری کاموں کی انجام دہی کے لیے ذاتی ای میل اکاؤنٹ کے استعمال کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کیونکہ اسے ممکنہ طور پر وفاقی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ یعنی محکمۂ خارجہ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک ہیلری کلنٹن کے پاس سرکاری ای میل ایڈریس نہیں تھا۔

وفاقی معاملات کے لیے سرکاری ای میل اکاؤنٹ کا ہونا ضروری ہے۔

ان کے ای میل اکاؤنٹ سے کی جانے والی ہزاروں ای میلز میں سب ان کے ذاتی پیغامات نہیں تھے۔

وفاقی قانون کے مطابق وفاقی اہلکاروں کی تمام خط و کتابت کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

صرف خفیہ دستاویزات کے علاوہ ان اکاؤنٹس کا زیادہ تر مواد بعد ازاں صحافیوں، کانگریس کی کمیٹیوں اور مؤرخین کے استعمال لیے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔

اس سے پہلے بھی کئی امریکی حکام نے خط وکتابت کے لیے ذاتی اکاؤنٹس کا استعمال کیا تھا تاہم ہیلری کلنٹن کی جانب سے ذاتی ای میل کا استعمال زیادہ مشہور ہو گیا۔

اب تک ان کی ای میل کے 55000 صفحات کو قابلِ رسائی بنایا گیا ہے تاہم اس میں سابق وزیرِ خارجہ کے تمام پیغامات شامل نہیں ہیں۔

امریکہ کے سرکاری واچ ڈاگ اور نیشنل آرکائیو اور ریکارڈ ایڈمنسٹریشن کے سابق اہلکاروں نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ہیلری کلنٹن کا اتنی بڑی تعداد میں ذاتی ای میل کا استعمال قانون کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس حوالے سے ایک بڑا خدشہ یہ بھی ہے کہ ذاتی ای میل اکاؤنٹ پر ہیکرز کی جانب سے حملے کا شکار ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں