ایران پوری دنیا کو درپیش ایک خطرہ ہے: نتن یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نتن یاہو کا کانگریس میں پرتپاک استقبال ہوا جہاں اراکین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر اُن کا خیر مقدم کیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے امریکی کانگریس سے اپنے ایک متنازع خطاب میں خبردار کیا ہے کہ ایران ’پوری دنیا کو درپیش ایک خطرہ‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر زیربحث معاہدہ ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی راہ آسان کرے گا۔‘

انہوں اس بات کو تسلیم کیا کہ اُن کی یہ تقریر متنازع ہے اور اس بات پر اصرار کیا کہ وہ امریکہ کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کر رہے۔

ان کے کانگریس سے خطاب کا فیصلہ وائٹ ہاؤس سے مشاورت کے بغیر کیا گیا جس نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات پر شکوہ کیا کہ یہ تقریر امریکہ کے اندورنی معاملات میں مداخلت ہے اور ایران کے ساتھ کسی متوقع معاہدے کے خلاف ملک کے اندر مخالفت کو بڑھاوا دینے کی کوشش ہے۔

یہ اسرائیل میں انتخابات کے صرف دو ہفتے قبل ہونے والی تقریر ہے جہاں بنیامن نتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے انتخاب میں حصہ لیں گے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے مارچ میں ایک معاہدہ ہونا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ماہدہ کرنا چاہتے ہیں جس کے بدلے میں ایران پر پابندیوں کو نرم کیا جائے گا۔

نتن یاہو کا ایوان میں پرجوش انداز میں استقبال کیا گیا جب وہ تقریر کے لیے داخل ہوئے اور راستے میں جس سے اُن کا دل چاہا انہوں نے ہاتھ ملایا۔

انہوں نے اصرار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات ’لازماً سیاست سے بالاتر‘ رہنے چاہیں اور وہ ’امریکی عوام کی حمایت پر اُن کے شکر گزار ہیں۔‘

تاہم وہ جلد ہی اپنے مدعا پر پہنچے اور کہا کہ ’ایران فتح، تسلط اور دہشت گردی کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نتن یاہو کی اس تقریر کو وائٹ ہاؤس نے اندورنی امریکی سیاسی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکمران ہمیشہ کی طرح قدامت پسند ہیں اور اُن کے نظریات متشدد اسلام میں پنہاں ہیں اور وہ ہمیشہ امریکہ کا دشمن رہے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شرکت کرنے سے وہ دوست نہیں بن جائے گا آپ کے دشمن کا دشمن، آپ کا دشمن ہے۔‘

مونٹرے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان مذاکرات میں شریک ذرائع کو اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں نتن یاہو اس معاہدے کی تفصیلات افشا نہ کر دیں مگر وائس آف اسرائیل ریڈیو کے مطابق نتن یاہو نے آخری گھنٹوں میں اپنی تقریر کو بہت حد تک متوازن بنایا ہے۔

اسی بارے میں