امریکہ، ایران مذاکرات کا دور ختم، کیری خلیجی کے دورے پر روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مزاکرات کے بعد جان کیری کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ایران کے ساتھ جو بھی معائدہ ہو وہ بینلاقوامی برادری کے لیے قابلِ قبول ہو

سوئٹزر لینڈ میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ مذاکرات کا ایک اور دور ختم ہو گیا ہے۔

دونوں حریفوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی حتمی معاہدے کے لیے کافی چیزوں کا طے ہونا باقی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف جلد دوبارہ ملیں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ اب سعودی عرب کے دورے پر ریاض جا رہے ہیں جہاں وہ خلیجی ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر اعتراضات پر بات چیت کریں گے۔

جان کیری ریاض میں سعودی فرمانروا سلیمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کریں گے اور خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے بھی ملیں گے جن میں بحرین، قطر، کویت، اومان اور متحدہ عرب امارات کے وزارئے خارجہ شامل ہیں۔

خلیج کی سنی اکثریتی ریاستیں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش سے خائف ہیں۔

اس دورے سے قبل اسرائیلی وزیراِعظم بن یامین نتن یاہو نے امریکی کانگرس میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر کسی بھی ممکنہ معاہدے کو ایک سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے مذاکراتی عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

نتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے بجائے اس خطرناک خطے میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہونے کا سبب بنے گا۔

مذاکرات کے بعد جان کیری کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ایران کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہو وہ بین الاقوامی برادری کے لیے قابلِ قبول ہو۔

سوئٹزر لینڈ کےذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِخاجہ کا کہنا تھا کہ ’ان مذاکرات کا مقصد کوئی بھی معائدہ کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد ایک صحیح معاہدہ کرنا ہے، ایسا معائدہ جو جانچ پڑتال پر پورا اتر سکے۔‘

ایرانی وزیرِخارجہ جواد ظریف سے ہونے والے اپنے مذاکرات کے بارے میں جان کیری نے کہا کہ ’شروع سے ہی یہ مذاکرات کٹھن رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔‘

دوسری جانب جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے جواد ظریف سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ ہاں ہوئی ہے مگر ابھی بہت کام باقی ہے۔‘

اسی بارے میں